فتویٰ پر پابندی

سوال:

ایک عالمِ دین کے فتویٰ دینے پر تنقید کیوں کی جاتی ہے، حالانکہ فتوے کا لفظ رائے کے مفہوم میں بھی بولا جاتا ہے؟


جواب:

فتوی کے دو پہلو ہیں: ایک چیز تو یہ ہے کہ آپ دین کی کوئی بات پوچھتے ہیں: مثلاً آپ یہ پوچھتے ہیں کہ دین میں طلاق دینے کا کیا طریقہ ہے یا آپ یہ پوچھتے ہیں کہ شرک کیا ہوتا ہے۔ تو یہ بات عالمِ دین ہی بتائے گا۔ آپ اسی سے پوچھیں گے، حتیٰ کہ ریاست کو بھی اگر یہ مسئلہ درپیش ہو تو وہ عالمِ دین ہی سے پوچھے گی اور ایک عالمِ دین ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دین کے کسی معاملے میں اپنی رائے دے۔ اس کے اس حق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

ایک چیز یہ کہ آپ محض رائے نہیں پوچھ رہے، بلکہ کسی دوسرے آدمی پر اس رائے کا اطلاق کر رہے ہیں۔ یعنی آپ یہ بات پوچھتے ہیں کہ اس مردو عورت میں طلاق ہو گئی یا نہیں؟ یا آپ یہ بات پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص مشرک ہو گیا یا نہیں؟ تو اس معاملے میں کسی عالم کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنا نقطہء نظر بیان کرے۔ یعنی قانون نافذ کرنے کا کام علما نہیں کریں گے۔ ایسے معاملات کو بہرحال عدالت کے پاس جانا ہے اور عدالت ہی کو ایسے معاملات کا فیصلہ کرنا ہے۔ البتہ نکاح و طلاق کے معاملے میں اگر عالمِ دین کو باقاعدہ ثالث بنایا جائے تو وہ طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دے سکتا ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author