فلاح انسانی کے لیے وظائف

سوال:

روحانیت اور تصوف کی دنیا میں بالخصوص اور روایتی مذہبی طبقہ میں بالعموم بہت سے وظائف رائج ہیں۔یہ طے ہے کہ یہ دین کا حصہ نہیں ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے اسماے گرامی اور آیات قرآنی ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مختلف مسائل کے لیے مخصوص طریق کار اور تعداد میں پڑھنے سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔فلاح انسانی سے یقینا اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں۔ اگر فلاح انسانی کے لیے وظائف ، درود شریف اور قرآنی آیات سے یہ فائدہ اٹھایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟


جواب:

قرآن مجید اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ، دونوں اسما وآیات کی اس نوع کے استعمال سے بالکل خالی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف مسائل و مشکلات میں نماز پڑھنے اور دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممکنہ تدبیر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی ہے۔بعینہٖ یہی رویہ ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کا نظر آتا ہے۔ تعویذ سے متعلق روایات عام طور پر سند کے اعتبار سے کمزور روایات ہیں۔ دین کے محکمات میں ان کی کوئی تائید نہ ہونے کی وجہ سے یہ اور کمزور ہو جاتی ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور قرآن مجید کا تعلیم کیا ہوا طریقہ تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے۔رہا یہ سوال کہ وظائف میں کوئی تاثیر ہے یا نہیں تو اس کا کوئی جواب ہمیں قرآن مجید یا صحیح احادیث میں نہیں ملتا۔ فیصلے کی بنیاد صرف مشاہدہ اور تجربہ ہی رہ گیا ہے۔ میرے علم کی حد تک فائدہ پہنچنے کی روایات بہت سی ہیں ، لیکن اس فن کو اس طرح مرتب نہیں کیا گیا کہ کوئی حتمی بات نہ سہی ، اعتماد ہی کا اظہار کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر قوم میں اس نوع کے فن کو جاننے والے پائے جاتے ہیں ، لیکن اس فن کو کبھی قابل اعتماد تدبیر کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا۔
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ وظائف کا یہ استعمال دینی اعتبار سے غلط ہے ، لیکن اس کی سفارش بھی نہیں کرتے۔ یہ ایک خطرناک وادی ہے ، اسی سے جبت اور توہم پرستی کی راہیں نکلتی ہیں۔ اس اعتبار سے اس میں دینی نقصان ہے۔ پھر یہ بعض اوقات صحیح تدبیر اور خدا پر اعتماد کا متبادل بن جاتے ہیں۔ اس پہلو سے یہ دنیوی نقصان کا باعث ہو سکتے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author