فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ

سوال:

میں اپنے مرحوم والد کی 66 سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینا چاہتا ہوں، مجھے یہ بتایا جائے کہ میں یہ فدیہ کتنا دوں اور کیسے دوں؟


جواب:

نمازوں کا کوئی فدیہ نہیں ہوتا، یہ آدمی کو خود ہی ادا کرنا ہوتی ہیں۔ اگر کسی نے ادا نہیں کیں اوروہ فوت ہو گیا ہے تو آپ اس کے لیے دعاے مغفرت کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔


وہ بوڑھا آدمی جو روزے نہ رکھ سکتا ہو یا ایسا مریض جسے صحت یابی کی امید نہ ہو، وہ اپنے روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے، لیکن اگر اس نے خود یہ فدیہ نہیں دیا اور وہ وفات پا گیا ہے اور مرنے سے پہلے اس نے فدیہ دینے کی کوئی وصیت بھی نہیں کی تو پھر آپ اس کی طرف سے یہ فدیہ ادا نہیں کر سکتے۔بس ان کے لیے آپ خدا سے معافی کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author