فری میسن

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کیا فری میسن اور اسلام باہم متصادم ہیں؟ بعض مذہبی مفکر فری میسن کو دجال کہتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت ہے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ حقیقی عشق رسول کیا ہے؟ کیا صرف ویب سائٹ پر پابندی لگوا کر سچے عاشق رسول کہلا سکتے ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے فری میسن کے بارے میں سوال کیا ہے۔ فری میسن کے بارے میں کو‎ئی یقینی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ ایک صہیونی تنظیم ہے اور یہ یہود کے عالمی اقتدار کے لیے کام کر رہی ہے۔ اگر یہ حقیقت نہ بھی ہو تب بھی یہ ایک مشکوک تنظیم ہے اور ایک مسلمان کو اس طرح کی چیزوں کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔ فری میسن کے بارے میں دجال کا لفظ اگر اس معنی میں بولا جائے کہ یہ ایک فریب ہے تو لفظ کی حد تک اس کا ایک محل ہے۔ لیکن اگر قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کے حوالے سے بات کہی گئی ہے تو یہ محل نظر ہے۔ روایات سے یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک شخصیت ہوگی۔

آپ کا دوسرا سوال عشق رسول کے بارے میں ہے۔ وہ بھی گستاخانہ خاکوں کے تناظر میں۔

سب سے پہلے یہ بات واضح کر دوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار دو لازمی پہلو رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ ہماری زندگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے تابع ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے منافی کسی قول فعل کو گوارا نہ کریں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ پہلی چیز بالعموم ہمارے ہاں موجود نہیں ہوتی اور دوسری چیز کے اظہار میں ہم کم ہی متوازن اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ صحیح قیادت کا فقدان ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں میں صحیح دینی شعور پیدا کیا جائے۔ اسی صورت میں وہ قیادت وجود میں آئے گی جو امت کی حقیقی معنوں میں ترجمان ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author