فرشتوں کی حقیقت

سوال:

کیا فرشتے اللہ کی طاقتوں میں سے ایک طاقت ہیں یا وہ ایک نوری مخلوق ہیں جو اپنا جسمانی وجود بھی رکھتی ہے جو انسانی روپ یا کسی بھی روپ میں ظاہر ہو سکتی ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کی صفاتی طاقتیں ہیں جنھیں مختلف فرشتوں کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے؟


جواب:

فرشتے اپنا تشخص رکھتے ہیں۔ وہ کائناتی قوتیں نہیں ہیں، نہ وہ خدا کی طاقتوں کے نام ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے بارے میں جس طرح کلام کیا گیا ہے، وہ کلام بتاتا ہے کہ وہ اپنا ایک تشخص رکھتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:

لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلاَ الْمَلٰۤئِکَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَیَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُُهمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا. (النساء٤:١٧٢)

''اور مسیح کو اللہ کا بندہ بننے سے ہرگز عار نہ ہو گا اور نہ مقرب فرشتوں کو عار ہو گا اور جو اللہ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اللہ ان سب کو اپنے پاس اکٹھا کرے گا۔''

یہ آیت بتاتی ہے کہ مقرب فرشتے بھی مسیح علیہ السلام کی طرح کسی کام سے عار محسوس کرنے کی اور تکبر کرنے کی صلاحیت، بہرحال رکھتے ہیں اور وہ بھی مسیح کی طرح اللہ کا بندہ بننے اور اس کی عبادت کرنے کے مکلف ہیں۔ اس طرح کی اور بھی بے شمار آیات ہیں، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اپنا باقاعدہ تشخص رکھتے ہیں ۔

ہم فرشتوں کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتے، بس اتنا معلوم ہے کہ وہ اللہ کی ایک مخلوق ہے۔ ان کے ذمے جو کام ہوتے ہیں، انھیں وہ بڑی فرماں برداری سے بجا لاتے ہیں۔

ہمیں اس بات میں کیوں کوئی اشکال ہو کہ فرشتے انسانی روپ دھار سکتے ہیں یا نہیں، اگر قرآن ایسی کوئی بات کرتا ہے کہ وہ انسانی روپ میں آ سکتے ہیں یا آئے ہیں تو ہم تہ دل سے اسے مانیں گے۔ارشاد باری ہے:

فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا، قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا، قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَهبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا. (مریم١٩:١٧ - ١٩)

''تو ہم نے اس (مریم) کے پاس اپنی روح کو بھیجا، جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوئی۔ وہ بولی کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے خدا رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔اس نے کہا کہ میں تو تمھارے رب ہی کا فرستادہ ہوں تاکہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔''

یہ آیت بتاتی ہے کہ خدا کی وہ فرستادہ روح بشر کی صورت دھار کر مریم کے پاس آئی تھی۔ اسی روح کو قرآن میں دوسری جگہوں پر روح الامین، روح القدس اور الروح کہا گیا ہے اور قرآن ہی کے دوسرے مقامات سے پتا چلتا ہے کہ یہ روح جبریل علیہ السلام ہیں۔

وہ فرشتے جو ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمانوں کی صورت میں آئے تھے، وہ بھی انسانی روپ ہی میں تھے ، جبھی تو وہ انھیں پہچان نہ سکے تھے اور ان کے لیے بھنا ہوا گوشت لا کر رکھ دیا۔ پھر جب انھوں نے وہ نہیں کھایا تو آپ نے ان سے یہ کہا کہ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں۔

اس طرح کے بعض اور مقام بھی ہیں، جن سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے انسانی روپ اختیار کیا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد اس سے انکار کی کوئی وجہ ہی موجود نہیں ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author