غائبانہ نماز جنازہ

سوال:

نماز جنازہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ایک قسم کی دعا ہے جو ہم مرحوم کے لئے کرتے ہیں۔ نماز جنازہ جماعت میں بھی ادا کی جا سکتی ہے اور انفرادی طور پر بھی۔ نبی علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام ایک ایک کر کے حضرت عائشہ کے حجرہ میں جا جا کر ان کی نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا آج میں انفرادی طور پر نبی علیہ السلام کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھ سکتا ہوں۔ اس کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا یہ جائز ہو گا یا حرام؟


جواب:

نماز جنازہ کے اذکار دعائیں ہی ہیں۔ البتہ اس کی ایک مخصوص اور متعین ہیئت اور شکل اسے عام دعا سے ممتاز کر دیتی ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ یہ انفرادی طور پر بھی پڑھی گئی ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہ سکتے کہ آپ کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا حرام ہو گا۔ البتہ نماز جنازہ ان لوگوں کی ادا کرتے ہیں جو حال ہی میں وفات پا گئے ہوں۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author