غیب دانی

سوال:

علم نجوم جس کے مختلف نام رائج ہیں،جیسے دست شناسی، علم الاعداد، فال گیری وغیرہ اپنی تمام اقسام کے ساتھ اسلام میں کیوں ممنوع ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ ایک حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ اس فن کے جاننے والے جب پیشین گوئی کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایک سائنس ہے۔ آخر اسے موسم کی پیشین گوئی کی طرح لینے میں کیا حرج ہے؟


جواب:

یہ تمام علوم مشرکانہ معاشروں کی باقیات میں سے ہیں۔ کسی مادی شے سے ماوراے اسباب نتائج اخذ کرنا یا ان کے ساتھ اچھے یا برے حالات کی نسبت کرنا، کسی چیز کو غیب دانی کا ذریعہ سمجھنا ،یہ ساری چیزیں قرآن مجید میں جبت قرار دی گئی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی سبب سے ان کو ممنوع قرار دیاہے۔
ان کو موسم کی پیشین گوئی سے مشابہ قرار دینا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسم کی پیشین گوئیاں مشاہدے اور تجربے پر مبنی علم کی روشنی میں کی جاتی ہیں،جبکہ جبت وہ چیزیں ہیں جن کی اصل اندازے اور اتفاق پر ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں ان علوم کو قابل اعتماد تدبیر کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی۔

نوٹ: متعلق سوال کے لیے دیکھیے(http://al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?art_id=435&id=149

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author