غیر محرم سے اختلاط

سوال:

درج ذیل سوالات کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟

پہلا یہ کہ کیا کوئی نوجوان اپنی ہم عمر رشتہ دار لڑکیوں سے گفتگو اور گپ شپ کی حد تک تعلق رکھ سکتا ہے اور کیا وہ انھیں دیکھ بھی سکتا ہے؟

دوسرا یہ کہ کسی لڑکی سے محبت کرنا، اس کے بارے میں سوچنا، شاعری کرنا اور خیال ہی خیال میں اسے چاہتے رہنا ،کیا جائز ہے؟

تیسرا یہ کہ وہ نوجوان کم عمر رشتہ دار لڑکی جس کے بارے میں آدمی کا ذہن عشق و محبت کے جذبات سے خالی ہو، کیا اس سے گفتگو وغیرہ کرنا جائز ہے؟


جواب:

آپ کے ان سوالوں کے جواب میں یہ گزارش ہے کہ دین کا مقصدتزکیہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان پاکیزہ بنے۔ اس میں شرم و حیا بھی موجود ہو، خدا خوفی بھی ہو اور پاکیزہ نفسی بھی ہو۔

چنانچہ اصل بات یہ ہے کہ غیرمحرم افراد کا میل جول کسی معقول وجہ ہی سے اور کسی مقصد ہی کے لیے ہونا چاہیے، خواہ مخواہ اور محض گپ شپ کی خاطر یہ درست نہیں ہے۔ مرد اور عورت اپنی ساخت ہی کے اعتبار سے اس طرح کے بنائے گئے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے کے ساتھ جنسی رغبت پیدا ہو، لہٰذا خواہ مخواہ میل ملاقات کے مواقع پیدا کرنا اور گفتگو کرنا، کسی صورت میں بھی درست نہیں، لیکن اگر کسی واقعی ضرورت یا مجبوری کے تحت غیر محرم افراد کو باہم ملنا جلنا پڑے تو اس کی اجازت ہے، لیکن اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ غض بصر اور حفظ فروج کے ان آداب کو ملحوظ رکھا جائے جو اسلام نے بتائے ہیں۔

غامدی صاحب نے اپنی کتاب''میزان'' کے باب ''قانون معاشرت'' میں ان آداب کو تفصیل سے بیان کیاہے۔ ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:

''اسلام نے اختلاط مرد و زن کے درج ذیل آداب سکھائے ہیں:

١۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ پہلے اجازت مانگنی چاہیے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے ، اس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے۔

٢۔ عورتیں اور مرد ایک دوسرے سے اپنی نظریں بچا کر رکھیں۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے ، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں۔ نہ وہ باہم نگاہ بھر کر دیکھیں اور نہ اپنی نگاہوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد چھوڑ دیں۔ اس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کا زنا ہے اور یہی وہ نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اسے فوراً پھیر لینا چاہیے۔

جریربن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا : اس طرح کی نگاہ اچانک پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا : فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو۔

٣۔ باہمی میل جول کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ تعبیر ناجائز شہوت رانی سے پرہیز کے لیے اختیار کی گئی ہے، لیکن اس سے متعلق سورہ نور کی آیات میں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد عورتوں اور مردوں کا اپنے صنفی اعضا کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ مردو زن ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپانا چاہیے۔ اس میں ظاہر ہے کہ بڑا دخل اس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں او رمرد ،دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو۔ پھر ملاقات کے موقع پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے۔ شرم گاہوں کی حفاظت سے یہاں قرآن کا مقصود یہی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرت میں غض بصر کے ساتھ یہ چیز بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے۔

٤۔ عورتوں کے لیے ، بالخصوص ضروری ہے کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔'' (میزان٤٦٤-٤٦٥)

تفصیل کے لیے آپ غامدی صاحب کی کتاب''میزان'' کے باب ''قانون معاشرت '' میں اس سے متعلقبحث ''مرد و زن کا اختلاط'' کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اب ہم دوبارہ آپ کے سوالوں کی طرف آتے ہیں۔

آپ کے سوالات کسی واقعی ضرورت یا مجبوری سے متعلق نہیں ہیں، بلکہ میرا خیال ہے کہ آپ یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ (cousins) لڑکے لڑکی کے لیے اسلام میں کتنی آزادی ہے اور کتنی نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بغیر کسی حقیقی مقصد اور حقیقی ضرورت کے کوئی آزادی نہیں ہے، مثلاً وہ کلاس فیلو ہیں اور انھیں ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے تو خالص اسی مدد کی نیت سے اور اسی کی حد تک وہ آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں، گو اسلام پسند یہی کرے گا کہ اس کا کوئی اور بہتر حل نکالا جائے۔

جہاں تک دیکھنے کا تعلق ہے تو اس کی بھی کوئی ضرورت ہونی چاہیے ورنہ محض اس وجہ سے دیکھنا کہ وہ ایک لڑکی ہے، یہ جائز نہیں ہے۔

انسان کو جس سے محبت ہو جائے، اس کے بارے میں وہ اضطراراً سوچتا رہتا ہے، اگر وہ شاعر ہے تو شاعری بھی کرے گا، یہ چیزیں ناجائز نہیں ہیں، جب تک کہ ان میں برائی اور گناہ کی سوچ شامل نہ ہو۔ ویسے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس مصیبت سے نکالے، کیونکہ یہ اس کے کردار کے لیے برے اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔عشق سے نکلنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اسی یا کسی بھی لڑکی سے شادی کر لے اور اس کے بعد خدا پر توکل کرتے ہوئے حقیقت شناسی کا راستہ اختیار کرے۔

آپ کے آخری سوال کا جواب یہ ہے کہ جس لڑکی کے بارے میں آدمی کا ذہن عشق و محبت کے جذبات سے خالی ہو ، اس کے بارے میں بھی صحیح رویہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت کی حد تک ہی اس سے گفتگو کرے اور اس کے لیے اپنے اچھے سے اچھے جذبات کا بھی کسی بہتر ذریعے ہی سے اظہار کرے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author