غیر مسلموں کو اچھے اعمال کا اجر

سوال:

ایک سوال کے جواب میں آپ نے یہ فرمایا: غیر مسلموں کو بھی ان کے اچھے اعمال کی جزا ملے گی۔ اگر آپ کی بات دنیا میں جزا سے متعلق ہے تو قابل قبول ہے ۔ آخرت کے حوالے سے یہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ غیر مسلم ایمان کے بنیادی شرائط ہی پورا نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر عیسائی، عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا، بلکہ بعض صورتوں میں اسی کا ایک روپ مانتے ہیں۔ وہ تثلیث کے ماننے والے ہیں۔ یہودی آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام بھی پیغمبر نہیں تھے۔ ہندو واضح مشرک ہیں۔ اس صورت حال میں کون سا غیرمسلم جزا پائے گا۔ ہم ابوطالب کی مثال کو دیکھتے ہیں۔ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ ان کو جہنم میں سب سے کم سزا ہو گی۔ بہرحال یہ تو واضح ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، حالاں کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا، وہ صرف اس لیے جہنمی ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔


برائے مہربانی ان سوالوں کے تناظر میں اپنا نقطۂ نظر وضاحت سے بیان کر دیجیے۔


جواب:

ہمیں آپ کی راے سے پوری طرح اتفاق ہے کہ ہر وہ شخص جس نے جانتے بوجھتے حق کا انکار کیا،وہ جہنم میں جائے گا۔ میرے اس جملے میں ''جانتے بوجھتے'' کا لفظ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ لفظ ہم نے قرآن مجید میں بیان کردہ اصول

 'لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا'

 (ان پر ریشہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا)

 سے اخذ کیا ہے۔ مراد یہ کہ ہر شخص کے جائز عذرات قبول کیے جائیں گے اور ان کے مطابق اسے رعایت بھی ملے گی۔ اس بات کو ہم مسلمان اپنے اوپر قیاس کرکے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے لوگوں میں ہر طرح کی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ اخلاقی جرائم، مثلاً جھوٹ، دھوکا دہی، حق تلفی اور قتل وغیرہ کا معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ ہر آدمی ان کا جرم ہونا سمجھتا اور جرم ہی کی حیثیت سے ان کا ارتکاب کرتا ہے، لیکن بدعات اور کلامی موشگافیوں کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ وہاں ایک استدلال ہوتا ہے جس پر ہر مذہبی آدمی اپنے اپنے فہم اور استعداد کے مطابق جما ہوا ہوتا ہے اورمخالفین کے اعتراضات کا اپنے خیال میں ایک کافی جواب بھی اپنے ذہن میں رکھتا ہے۔ اس کے ذہن میں حق اور ناحق ہونے کے پیمانے ہوتے ہیں اور انھی کے مطابق وہ مطمئن ضمیر کے ساتھ رد وقبول کے فیصلے کر رہا ہوتا ہے۔ ہمارے، یعنی مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں اس طرح کی متعدد مثالیں ملیں گی۔ یہ لوگ سچے حق پرست ہوتے ہیں۔ اپنے فرقے کے نقطۂ نظر کو مبنی بر دلائل حق سمجھ کر قبول کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ مخالف فرقے والے کو گمراہ اور اللہ کی گرفت کا مستوجب سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اگر انھیں اپنی غلطی سمجھ میں آجائے تو فوراً اپنی راے تبدیل کر لیتے ہیں۔ دراں حالیکہ وہ کسی بدعت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں یا عقیدے کی کسی ایسی خرابی میں مبتلا ہوتے ہیں جسے دوسرا شرک قرار دے رہا ہوتا ہے۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا مخلص بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث یا شیعہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی بدعت یا شرک کی بنیاد پر جہنم میں ڈال دیا جانا چاہیے،دراں حالیکہ اسے وہ پورے یقین واعتماد کے ساتھ شرک یا بدعت نہیں سمجھتا تھا اور اگر اسے سمجھ میں آجاتا تو فوراً تائب ہو جاتا،کیونکہ مشرک اور بدعتی کے جہنمی ہونے پر قرآن وحدیث قطعی ہیں۔ ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ایسے لوگ جہنم میں نہیں جائیں گے۔ جہنم میں صرف وہی لوگ جائیں گے جنھوں نے حق سامنے آیا، اسے حق سمجھا ، لیکن محض گروہی تعصبات یا دنیوی مفادات کے باعث قبول نہیں کیا۔
اسی بات کا اطلاق ہم غیر مسلموں پر بھی کرتے ہیں۔ ان میں بھی ایسے مخلص لوگ ہوتے ہیں جو ضمیر کے پورے اطمینان کے ساتھ اپنے مذہب کو حق سمجھتے ہیں اور اس کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ حق کے سچے طالب ہوتے ہیں اور حق سمجھ میں آنے پر قبول کرنے میں انھیں کوئی عار نہیں ہوتی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ اپنی نیکیوں کی جزا پائیں گے، لیکن کوئی مسلمان اور کوئی غیر مسلم محض اپنے گروہ سے نسبت پر جزا کا مستحق نہیں ہوتا، اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے لیے اپنے دین کو خالص کیے ہوئے ہو اور حق کے علاوہ کسی دوسری چیز کا پرستار نہ ہو۔ جو جانتے بوجھتے حق کا انکار کر دے، وہ مسلم ہو یا غیر مسلم وہ عذاب کا مستحق ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author