غیر قانونی کاروبار

سوال:

ایک ایسا کاروبار کرنا جائز ہے جو حکومت میں موجود لوگوں نے غیر ملکی کمپنیوں کے مفاد کے لئے غیر قانونی قرار دیا ہو ؟ یہ غیر ملکی کمپنیاں اس سے حاصل کردہ آمدن کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ اگر آپ یہ کاروبار کرنا چاہیں تو حکومت کبھی اجازت نہیں دیتی۔ اب اگر آپ نے تمام تر کوشش کر لی اور آپ کو اجازت نہ ملی جبکہ آپ کی نیت ہے کہ اس کاروبار سے حاصل شدہ آمدن کو کبھی ناجائز کام میں نہیں لگائیں گے اور زیادہ سے زیادہ غریبوں کی مدد کریں گے کیا پھر بھی اس کام کو کرنےاجازت نہیں ہے؟


جواب:

غیر قانونی طریقے اختیار کرکے کوئی کام کرنا مناسب راستہ نہیں۔ہمیں اپنے حکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے۔

’’حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم لوگ شر کا شکار تھے، پھر اﷲ خیر کو لے آیا۔ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا؟ فرمایا: جی ہاں۔ عرض کیا: کیا پھر اس شر کے بعد خیر ہو گا؟ فرمایا: جی ہاں۔ عرض کیا: پھر اس خیر کے بعد دوبارہ شر آئے گا؟ فرمایا: جی ہاں۔ عرض کیا: وہ کیسے؟ فرمایا: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ تو میری ہدایت کی پیروی کریں گے اور نہ ہی میری سنت پر چلیں گے۔ ان میں ایسے لوگ ہوں گے جو انسان کے جسم میں شیطان ہوں گے۔ عرض کیا: پھر ایسی صورت میں میں کیا کروں؟ فرمایا: حکمران کی بات سنیے اور اس کی اطاعت کیجیے خواہ وہ آپ کی پیٹھ پر کوڑے برسائے اور اگر آپ کا مال بھی چھین لے، تب بھی اس کی بات سنیے اور اطاعت کیجیے۔ (صحیح مسلم، کتاب الامار )‘‘

اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی روشنی میں ہمیشہ لیے صحیح راستہ قانون کی پیروی کا ہے۔ البتہ حکومت کے ایسے قوانین اور خود حکومت کو بدلنے کی جوشش ضرور کرنی چاہیے۔ مگر اس کے لیے پرامن راستہ اختیار کرنا چاہیے اور رائے عامہ کو ہموار کرکے اپنی بات منوانے کرنی چاہیے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author