غیر اللہ سے مدد مانگنے والے

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ جو مسلم لوگ اللہ تعالٰی کے سوا یا اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی بھی بزرگ ہستی (جو اس دنیا میں موجود ہو یا موجود نہ ہو) سے دعا مانگتے ہیں یا ان سے مدد طلب کرتے ہیں، جیسے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اکثر پکارا جاتا ہے، اور ان کے نام کی نذر و نیاز کی جاتی ہے، تو ان لوگوں کے بارہ میں اسلام کیا حکم دیتا ہے؟ ان سے ملنا اور تعلقات رکھنا خدا کی نظروں میں کیسا ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھنا چاہیے؟


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے پوچھا ہے کہ مسلمانوں میں سے جو لوگ شرک کے مرتکب ہیں ان کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

پہلی بات تو یہ واضح رہنی کہ اہل اسلام میں پایا جانے والا شرک تاویل کا شرک ہے۔ یعنی جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ اسے شرک مان کر نہیں کرتے اور شرک کرنے کو ایک قبیح جرم سمجھتے ہیں۔ اللہ تک رسائی کے لیے کسی کو وسیلہ بنانا ان کے نزدیک شرک نہیں ہے۔ اسی طرح غیر اللہ سے استمداد کی بھی کچھ صورتیں ان کی رائے میں شرک نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک کا جرم ہونا ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرک کا اطلاق کرنے میں یہ لوگ غلطی پر ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ ہماری خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انھیں تاویل کی اس غلطی سے نکالیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان بہت اچھے انسانی تعلقات ہوں۔ اچھے تعلقات کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کی شرکیہ رسوم یا بدعات میں شریک ہوں۔داعی برائی کا دشمن ہوتا ہے اور اس کے استیصال کے لیے ہمہ تن کوشاں رہتا ہے۔ لیکن برائی میں پڑے ہوئے لوگوں کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے۔ چنانچہ برائی پر کوئی مداہنت compromise کیے بغیر وہ ان کی اصلاح کے لیے محنت کرتا رہتا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author