غامدی صاحب کی بے جا مخالفت اور فہمِ دین کا درست رویہ

سوال:

میں جاننا چاہتا ہوں کہ ہمارے نوجوان خصوصاً اعلی تعلیم یافتہ لوگ اپنے سے مختلف نقطۂ نظر سننے کے روادار کیوں نہیں ہوتے ، اور اختلاف کو کیوں بغض و عناد اور متشدد قسم کی مخالفت کا سبب بنا لیتے ہیں؟ لوگ جاوید احمد غامدی صاحب کے اتنا مخالف کیوں ہیں ؟


جواب:

آپ نے ایک بہت اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیوں لوگ ایک مختلف بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہمارے نزدیک اس کا سبب ہمارے مذہبی لوگوں کی تربیت ہے۔ اس تربیت میں پہلی اور بنیادی بات یہ سکھائی جاتی ہے کہ اپنے عالم، اپنے فرقے اور اپنے گروہ کے سوا حق کسی کے پاس نہیں۔ صرف ہم ہدایت پر ہیں اور باقی سب لوگ گمراہ اور جہنمی ہیں۔ مسئلہ صرف جاوید صاحب کا نہیں ، تمام مذہبی لوگوں کی آرا ایک دوسرے کے بارے میں یہی ہیں۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ ، سنی سب ایک دوسرے کو کافر، گمراہ اور بددین سمجھتے ہیں۔ جاوید صاحب میڈیا پر آج کل ذرا نمایاں ہیں تو توپوں کے دھانوں کا رخ ان کی طرف ہے۔ وگرنہ مذہبی لوگ تو ہمیشہ یہی کچھ کرتے آئے ہیں۔ یہی ان کی تربیت ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے لوگوں سے ہٹ کر کچھ جدا اور مختلف بات کہے اسے گمراہ قرار دے دیا جائے۔ اسے فتنہ اور دشمنوں کا ایجنٹ قرار دیا جائے اور اپنی مشیخیت، معصومیت اور حق پرستی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو کس قدر بھڑ کانے والا ہے ، اس کا شعور ان خدائی فوج داروں کو ہر گز نہیں ہے۔

دین کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر کسی کی بات سنی جائے ، اس کی دلیل سمجھی جائے ، قرآن و سنت کے مطابق نہ لگے تو واضح کر دیا جائے کہ ہمارے اختلاف کی بنیاد قرآن و سنت کا فلاں اصول ہے۔ اس سے ہٹ کر الزام تراشی ، تکفیر اور بد گوئی کا رویہ اختیار کرنا تو خود دین کی بنیادی تعلیم کے خلاف ہے۔

جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ بہت سے نوجوان کیوں جاوید صاحب کے خلاف ہیں تو اس کی اہم اور اضافی وجہ یہ ہے کہ مذہبی لوگو ں کی بڑ ی تعداد نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ جاوید صاحب کے خلاف جھوٹ بولیں گے اور جھوٹ پھیلائیں گے ، ہر حقیقت کوتوڑ مروڑ کر پیش کریں گے اور ہر بات کو غلط معنی پہنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ رویہ شروع میں تو کچھ نتائج پیدا کر دیتا ہے ، مگر آہستہ آہستہ جب دھند چھٹتی ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ کس نے اپنی عاقبت کو خراب کیا اور کس نے دین کی خدمت کی ہے۔

ہم اللہ کے بھروسے پر صبر کر کے اپنا کام کر رہے ہیں۔ مخالفین اپنا کام کرتے رہیں۔ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ وقت ہر چیز کا فیصلہ کر دے گا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author