گھر میں اذان دینا اور تعویز پہننا

سوال:

ہم نے جون میں نیا گھر لیا۔ ستمبر میں میری شادی ہوئی۔ دس دن بعد میری والدہ کی وفات ہوگئی۔ نومبر میں میری جوان بہن کی وفات ہو گئی۔ مولوی صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں نے کچھ تعویز دیے اور کہا کہ گھر میں تین ٹائم اذان دیا کرو، مصیبت چلی جائے گی۔ کیا گھر میں اذان دینا اور تعویز پہننا صحیح ہے۔


جواب:

آپ جس غم سے گزرے ہو اس کو آسانی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شکر ہے کہ آپ نے اس سے بہت زیادہ منفی معنی نہیں نکالے۔

ہم مسلمان کی حیثیت سے یہ بات مانتے ہیں کہ موت اٹل ہے اور اللہ نے اس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے اور یہ وقت آگے پیچـھےنہیںہوتا۔چنانچہموتکیاسحیثیتکوجاننااوراسکیاسحیثیتکومانکراسکےحوالےسےعقیدےاورعملکودرسترکھناضروریہے۔

قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں صحت اور رزق اور اسی طرح دوسری ضروریات کے لیے تدبیر کرنی ہے اور تدبیر کرتے ہوئے اللہ کی مدد اور تائید پر بھروسا کرنا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی اور آپ کے سامنے موجود صحابہ کی زندگی غیر معمولی مشکلات سے گزری ہے۔ لیکن نہ قرآن مجید نے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کوئی وظیفہ، کوئی تعویز یا اسی طرح کا کوئی اور عمل کرنے کی تلقین کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھایا ہوا طریقہ یہی ہے کہ ہم تدبیر اور دعا ہی کا طریقہ اختیار کریں۔

جو باتیں آپ نے مولوی صاحب کے حوالے سے لکھی ہیں یہ لوگوں کی اپنی دریافتیں ہیں۔ اس لیے دین میں ان کا کوئی بیان نہیں مل سکتا۔

میرے نزدیک، آپ کو اپنے عقیدہ و عمل کو درست رکھنا ہے اور دنیا کے عام اصولوں پر تدبیر کرنی ہے۔ صحیح تدبیر تک پہنچنے اور تدبیر کے کامیاب ہونے کے لیے دعا کرنی ہے۔ آپ جس مشکل سے گزرے ہیں اس میں صبر سے کام لیں۔ ان شاء اللہ صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت حاصل رہتی ہے۔


answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author