غلاف کعبہ

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ اس سال غلاف کعبہ کو پھر تبدیل کیا گیا جب کہ نئے غلاف پر ایک کروڑ ستر لاکھ ریال خرچ ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اس غلاف کو ہر سال بدلنے کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ اس قدر زیادہ مال خرچ کرنا اسراف نہیں کہلائے گا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ نے ‏غلاف کعبہ کے بارے میں پوچھا ہے کہ کیا اس کا ہر سال بدلنا ضروری ہے اور اس خطیر رقم کو دوسرے کاموں میں صرف نہیں کیا جا سکتا۔

جہاں تک قرآن وحدیث کا تعلق ہے اس میں غلاف کعبہ کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں ہوئی۔ اس کا تعلق ہمارے جذبۂ عقیدت سے ہے۔ ہم ہر سال بھی غلاف تبدیل کر سکتے ہیں اور چاہیں تو وقفہ بھی کر سکتے ہیں۔ غلاف سادہ بھی بن سکتا ہے اور قیمتی بھی۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ غلاف کعبہ کی روایت بہت قدیم ہے اور بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل اسلام سے ہے۔ روایات اگر درست نہج پر ہوں تو ان کے قیام و استحکام ہی میں خیر ہے۔ امت کی سطح پر غلاف کعبہ کا اہتمام کوئی بڑا خرچ نہیں ہے۔ امت مسلمہ کے پاس بہت وسائل ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ انھیں منصفانہ طور پر امت کی فلاح و بہبود پر صرف کرنے والی لیڈرشپ نہیں ہے۔ چنانچہ افراد امت کے دگرگوں حالات دیکھ کر ہمیں خیال ہوتا ہے کہ فلاں کام نہ ہو یا اس طرح ہو تو شاید یہ مسئلہ حل ہو جاۓ۔ حالانکہ آپ بھی سمجھتے ہیں کہ غلاف کعبہ نہ بنے تب بھی غریب مسلمانوں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

اصل ضرورت امت کی مجموعی معاشی ترقی کے ایسے اقدامات کی ہے جس کے نتیجے میں ہر ہر فرد کے لیے اچھی روزی کمانے کے حالات پیدا ہوں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author