غلامی كا خاتمہ نہ ہونے کے اسباب

سوال:

اگر اسلام نے جيسا كہ آپ لوگ كہتے ہيں غلامی ختم كرنے كا حكم دے ديا تھا تو پھر عالم اسلام ميں غلامی كيوں ختم نہ ہو سكی؟


جواب:

غلامی کو قرآن مجيد نے بلاشبہ ختم کرديا تھا۔ ميں اس وقت مصرفيات کي بنا پر مفسرين کے نام تو نہيں بتا سکتا ، البتہ غلامی کے خاتمے کے بارے ميں سيد سابق صاحب کی فقہ السنہ ميں وہی رائے کچھ اختلاف کے ساتھ موجود ہے جسے ہم لوگ پيش کرتے ہيں۔انھوں نے تاريخ اور حديث کے حوالوں سے اپنی تحقيق کو مزين بھی کيا ہے ۔


غلامی اسلامی معاشرے ميں سے کيوں ختم نہ ہو سکی؟ آپ کے اس سوال کے جواب ميں کچھ معروضات پيش کررہاہوں۔ میرے خيال ميں اس کی درج ذيل وجوہات ہيں:


قرآن مجيد جس طرح سے نازل ہوا ہے، اس ميں ايک اہم پہلو اس کے تدريجی احکام ہيں۔ يعنی ايک حکم اپنی ابتدائی صورت ميں نرم ہوتا اور پھر آہستہ آہستہ سخت کيا جاتا تھا۔ اس کی اہم مثالوں ميں سے ايک مثال حرمت خمر ہے ۔پہلے پہل اس کی ناپسنديدگی اس طرح سے آئی کہ مکی سورتوں ميں جنت کی شراب کے اوصاف ميں يہ بات بہت زور سے بيان کی گئی کہ اسے پينے والے لغو و تاثيم سے بچے رہيں گے (طور 52 : 23) ۔ گويا شراب کی خرابيوں کی طرف اشارہ کيا گيا تاکہ اشارہ پاکر سمجھنے والے اسے سے گريزاں رہيں۔اس ناپسنديدگی کی شدت ميں مزيد اس وقت اضافہ کيا گيا جب سورۂ نساء ميں يہ حکم آيا کہ نشہ کي حالت ميں نماز کے قريب بھی نہ آيا کرو(4: 43)۔ پھر اس کے بعد ايک صريح حرمت سے بھی بڑھ کر حکم آيا کہ يہ شيطانی عمل ہے اسے چھوڑ دو (مائدہ 5: 90)۔


يہ تينوں احکام ايک ہی وقت کے نہيں ہيں۔ليکن کسی کو غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ يہ تينوں احکام آج بھی بيک وقت ملحوظ ہيں جيسے ہی کوئی شخص ان تينوں حکموں کو بيک وقت مانے گا تو وہ لازما اس نتيجے پر پہنچے گا کہ شراب حرام نہيں ہے ، بلکہ صرف عقل کا ماؤف ہونا نا پسنديدہ ہے اس ليے کہا گيا کہ نشہ کي حالت ميں نماز ميں مت آؤ اور لغو و تاثيم ميں نہ پڑو۔يہی باتيں اسے شيطانی عمل بناتی ہیں تو اس کے اس شيطانی عمل سے اجتناب کرنا ہو گا۔ اس ليے بس اتنی شراب پی جائے کہ نشہ نہ ہوتا کہ آدمی لغو و تاثيم ميں نہ پڑے۔ واضح سی بات ہے کہ یہ قرآن کا موقف نہيں ہے۔ قرآن سے آخری بات جو ثابت ہوتی ہے وہ حرمت شراب کی ہے اس ليے کہ تدريجی احکام کا آخری حکم اسے شيطانی عمل قرار دے کر اجتناب کاديا گيا ہے۔


ٹھيک يہی غلطی غلامی کے قانون کے بارے ميں ہوئی۔ اس کے متعلق تمام احکام کو بيک وقت عمل ميں مانا گيا ہے۔ حالانکہ ايسا نہيں ہے۔ شراب ہی کی طرح مکی سورتوں ميں غلامی کو ناپسنديدہ بنانے کے ليے غلاموں کو آزاد کرانے کو نيکی قرار ديا گيا۔ بعد ميں جنگي قيديوں کو غلام بنانے سے روکنے کا قانون سورۂ محمد ميں ديا گيا۔ پھر موجود غلاموں کی آزادی کے ليے مکاتبت کا قانون ديا گيا ۔ يعنی ايک طرف نئے غلام بننے کے عمل کو روک ديا اور دوسری طرف بنے ہوئے غلاموں کی آزادی کی راہ کھول دی۔ جيسے ہی جنگی قيديوں کو غلام بنانے سے روکا گيا تو ساتھ ہی يہ بات بھی واضح ہو گئی کہ آزاد آدمی کو غلام بناناممنوع ہے ۔احاديث ميں پھر اسی حکم کو اس طرح سے بيان کيا گيا ہے کہ آزاد آدمی کو پکڑ کر غلام بنانے والا جہنمی ہے ، اور اس کی سزا موت ہے۔


ايک طرف يہ احکام تھے تو دوسری طرف غلام عورتوں سے ازدواجی تعلق رکھنے کی بھی اجازت دی گئی۔ ان دونوں حکموں کو يعنی اوپر کے پيرے کے تينوں حکموں کو اور اس حکم زوجيت کو بيک وقت نافذ العمل مانيں تو يہاں بھی حرمت خمر ہی کی طرح يہ بات سامنے آتی ہے کہ غلامی جائز ہے۔ اس ليے کہ غلام عورتوں سے زوجيت کی اجازت دی گئی ہےتو يہ اجازت بتا رہی ہے کہ غلامی ممنوع نہيں ہے۔يہ بات بھی قرآن کے موقف کے خلاف ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ غلام عورتوں سے زوجيت کی اجازت عبوری دور کا قانون ہے۔ کيونکہ قرآن نے غلامی کے خاتمے کے ليے جو قانون ديا تھا وہ غلاموں کو فورا آزاد نہيں کرتا ، بلکہ حکمت کے ساتھ آہستہ آہستہ آزاد کرتا تھا تا کہ معاشرے ميں بے روزگارغلاموں کا طوفان نہ امڈ پڑے۔چنانچہ اس حکمت بالغہ کے تحت جب غلام گھروں ميں رہنے تھے تو يہ ضروری تھا کہ ان کی معاشرت کا قانون بھی ديا جائے۔ يہی وجہ ہے کہ قرآن مجيد ميں ان کی معاشرت کا قانون بھی ديا گيا۔ مثلا مکی دور ميں يہ کہا گيا کہ گھروں ميں جو غلام عورتيں ہيں اور ان کے ساتھ ان کے مالکوں نے جو دور جاہليت کے ضابطوں کے مطابق زوجيت کا تعلق قائم کيا ہے ، وہ اسلام ميں بھی جائز ہے(مومنون، المعارج) مدنی دور ميں آکر اسے نکاح کے ڈھانچے ميں ڈھال ديا گيا(نساء 4: 24)۔ اسی طرح غلاموں کی باہمی شادی کا ضابطہ بنايا گيا ۔ اور بے طول آزاد مردوں کو بھی غلاموں سے شادی کی ترغيب دی گئی۔ يہ سب چيزيں غلاموں کی موجودگی تک کے ليے ان کی معاشرت کا قانون تھا۔ جيسے شراب کے حرام ہونے سے پہلے تک يہ قانون تھا کہ نشہ کی حالت ميں نما ز ميں مت آؤ۔يہ قانون موجود غلاموں کے ليے رحمت کی ٹھنڈي ہوا تھا، ليکن ساتھ اس سے يہ تاثر بھي قائم ہوا کہ شايد غلامی اسلام ميں جائز ہے۔ يہ پہلی وجہ ہے جو صحابہ کے بعد غلامی کو ختم کرنے ميں رکاوٹ بنی۔


دوسری وجہ يہ ہوئی کہ اسلام ميں جنگی قيديوں کو غلام بنانے سے صريحا روک ديا گيا۔آزاد کو اغوا کرکے غلام بنانے سے منع کرديا گيا۔ ليکن اس بات سے نہيں روکا گيا تھا کہ اگر کوئی غلام بکنے کے ليے آئے تو اسے خريدا جائے۔غلاموں کو خريدنے سے منع نہ کرنے ميں ايک حکمت تھي کہ اس سے دوسری قوموں کے غلاموں کے ليے آزادی کا راستہ کھلا رہے گا۔ وہ اگر بکتے بکاتے عرب مسلمانوں کے ہاتھ ميں پہنچ جائے تو وہ مکاتبت کا فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ جبکہ کسی اور معاشرے ميں خود غلاموں کے ليے اپنے آزاد ہونے کا کوئی راستہ موجود نہ تھا۔


تيسری وجہ يہ ہوئی کہ مکاتبت کے قانون کی وجہ سے چونکہ يہ سہولت موجود تھی کہ جو غلام اپنے مستقبل کی خرابی کا انديشہ رکھتا ہو يا نحيف و نزار ہو، يا بوڑھا ہو اور کمانے کي ہمت نہ رکھتا ہو تو وہ مکاتبت کے ذريعے سے آزادی نہ پائے۔ چنانچہ اس کا نتيجہ يہ نکلا کہ بہت سے غلاموں نے اپنے آقاؤں کی غلامی ميں رہنے کا فيصلہ کيا۔ جس کے نتيجے ميں غلامی فورا ختم نہيں ہوئی اور دور صحابہ کے بعد تک ممتد ہوئی ۔اس وجہ سے يہ بات تاريخ ميں مرقوم ہو ئی کہ صحابہ غلامی کو جائز سمجھتے تھے۔اور تا حال يہی تاثر امت کے اہل علم ميں قائم ہے۔


چوتھی وجہ يہ ہوئی کہ اس وقت بين الاقومی سطح پرغلامی کا رواج عام تھا۔ اس رواج کی بنا پر ايک بين الاقوامی دباؤ امت پر رہا۔ غلاموں کے ريلے کے ريلے اسلامی منڈيوں ميں آتے رہے ۔ غلاموں کے خريدنے پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے يہ سلسلہ چلتا رہا۔اسی طرح باہم غلامی کے تحفے تحائف بھی موصول ہوتے رہے۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.