گیارھویں اور دیگر رسوم

سوال:

قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ سب گناہ معاف فرما دے گا لیکن شرک کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گا ، اسی طرح جس جانور پر اللہ کے علاوہ کسی غیر کا نام لیا جائے تو وہ حرام ہو جاتا ہے ، پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے مسلمانوں میں رائج گیارھویں شریف جیسی رسموں کی کیا حقیقت ہے ؟


جواب:

شرک کے بارے میں یہ بات آپ نے ٹھیک بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرمائیں گے ۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا ہے


''اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے ۔ اس کے سوا جو کچھ ہے ، اس کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے وہ ایک بہت بڑ ے گناہ کا افترا کرتا ہے ''۔(النساء 4: 48


اسی طرح یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ یا اس کے نام کی نذر دونوں حرام ہیں ۔درج ذیل آیات میں 'غیر اللہ کے نام پر نامزد اور ذبح کیا گیا' نیز کسی 'تھان یا آستانے پر ذبح کیا گیا جانور' کے الفاظ سے یہ بات صاف واضح ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے


''کہہ دو: میں تو اس وحی میں جو مجھ پر آئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز جس کو وہ کھائے ، حرام نہیں پاتا ، بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ، یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بے شک ناپاک ہیں ، یا فسق کر کے اس کو غیر اللہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو۔ اس پر بھی جو مجبور ہو جائے ، نہ چاہنے والا بنے اور نہ حد سے بڑ ھنے والا ، تو تیرا رب بخشنے والا اور مہربان ہے ''۔ (الانعام6: 145)


''تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا جس پر غیر اللہ کانام لیا گیا ہو اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو ، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو ، جو سینگ لگ کر مرا ہو ، جس کو کسی درندے نے کھایا ہو ، بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کر لیا ہو ، اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو ، اور یہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعے سے۔ یہ سب باتیں فسق ہیں ''۔ (المائدہ 5: 3)


جہاں تک گیارھویں اور اس طرح کی دوسری رسوم کا تعلق ہے تو یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اہلِ سنت علما کے نزدیک بھی غیراللہ کے نام کا ذبیحہ ، ان کے نام کی نذر اور اور غیر اللہ کو سجدہ ، یہ سب حرام و ناجائز کام ہیں ۔ لوگ ایسے مواقع پر عام طور پر جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں وہ ایصالِ ثواب کا عمل ہوتا ہے یعنی لوگ کھانا وغیرہ پکا کر اسے اللہ تعالیٰ کی نذر کرتے ہیں اور اس کا ثواب مختلف لوگوں کو پہنچاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہاں یہ بحث تو ہو سکتی ہے کہ اس طرح سے ایصالِ ثواب کرنا صحیح طریقہ ہے یا نہیں ، لیکن اس پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی کہ یہ کوئی مشرکانہ عمل ہے۔


اسی طرح ان مواقع پر جو اذکار اور ختم وغیرہ پڑ ھے جاتے ہیں ، ان پر دوسرے پہلوؤں سے تو اعتراض کیا جا سکتا ہے ، لیکن انہیں شرک نہیں کہا جا سکتا۔ شرک تو غیر اللہ کی عبادت ، اس سے دعا اور اس کے حضور نذر پیش کرنے اور اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو خدائی صفات میں شریک سمجھنے کو کہتے ہیں۔ یہ چیزیں اگر پائی جائیں تو پھر ان کاموں پر بلاشبہ تنبیہہ کی جانی چاہیے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author