حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنہا

سوال:

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام ہمارے گھر میں ٹھہرتے اور آرام فرماتے اور وہ ان کا پسینہ اکٹھا کرتیں اور پھر اسے خوشبو کے طور پر استعمال کرتیں۔ حضور علیہ السلام نے ام سلمہ سے پوچھا : یہ آپ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ آپ کا پسینہ ہم خوشبو کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ یقینا سب سے اعلی خوشبو ہے۔ صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں: اے اللہ کے رسول، ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: جو تم کر رہی ہو وہ ٹھیک ہے۔ یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ حضرت ام سلمہ یہ کوئی اور ایسا کر سکتا ہے۔ یہ بات البتہ حضور حضور علیہ السلام کے اخلاقی مرتبہ سے مناسبت نہیں رکھتی کہ وہ اس کی اجازت دیں گے۔ کچھ دوسری احادیث حضور علیہ السلام کے لعاب اور آپ کے وضو کے پانی کے بارے میں بھی ہیں۔ ان اخبار احاد کے علاوہ سیرت کا میرا مطالعہ اس طرح کا تاثر نہیں دیتا کہ آپ نے اس کی اجازت دی ہو گی ۔ آپ علیہ السلام کے وضو کے متعلق متعدد روایات ہیں مگر ان میں یہ بات مذکور نہیں۔ مزید براں تھوک والا معاملہ تو بالکل ہی سمجھ نہیں آتا۔


جواب:

جس طرح کے واقعات کا آپ نے ذکر کیا ہے، یہ کتب احادیث میں بلاشبہ ملتے ہیں اور سنداً صحیح ہیں۔اس میں یہ بات ٹھیک ہے کہ نہ یہ صحابہ کرام کا عمومی طرز عمل تھا اور نہ اکابرصحابہ میں کسی کے حوالے سے ایسا کوئی واقعہ احادیث میں نقل ہواہے۔ باقی رہی یہ بات کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بعض مواقعوں پر اس طرح کی کسی چیز کو ہونے دیا تو اس سلسلے میں ہماری رائے یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لوگوں کے جذبات اور احساسات کا لحاظ فرمایا کرتے تھے، اس لیے کسی خاص فرد یا خاص قسم کی حالات کی رعایت کرتے ہوئے آپ نے ایسی چیزوں کو ہونے دیا اور لوگوں کو منع نہیں کیا۔اس لیے کہ ان سے دین کا کوئی بنیادی حق مجروح نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے نزدیک ایسے واقعات کو دیکھنے کا یہی زاویہ ہونا چاہیے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author