حج کے بعد گناہ کبیرہ اور توبہ

سوال:

حج ہمارے دین میں چند بنیادی فرائض میں سے ہے ۔کسی بھی مسلمان کے لئے حج کرنا ایک بڑ ی سعادت کی بات ہے ، صرف وہی لوگ یہ سعادت حاصل کرپاتے ہیں جنہیں خدا کی طرف سے اس کی توفیق ملتی ہے۔ دعا ہے کہ خدا ہر مسلمان کو اس کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص حج پر جاتا ہے اور واپس آ کر گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ کیا ایسے گناہگار کو اللہ تعالیٰ معاف کریں گے اگر وہ اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے ؟ ایسے انسان کا آخر کیا ہو گا؟ جس طرح عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حج سے واپس آ کر اگر ایک شخص کی زندگی میں تبدیلی آ جاتی ہے چاہے زیادہ یا کم تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حج مقبول ہو گیا ہے ۔ کیا اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے شخص کا حج قبول نہیں ہوا؟ براہِ مہربانی اس مسئلے پر کچھ روشنی ڈالئے اور جلد ہمیں اس بارے میں صحیح نقطۂ نظر سے آگاہ کیجیے۔


جواب:

حج بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے ، بعض احادیث کی رو سے حج کے نتیجے میں گنا ہوں کی مغفرت کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے :

’’جوشخص اللہ کے لیے حج کرے ، پھراس میں کوئی شہوت یانافرمانی کی بات نہ کرے تو وہ حج سے اس طرح لوٹتا ہے ، جس طرح اس کی ماں نے اسے آج جنا ہے ۔‘‘(بخاری، رقم1723۔مسلم، رقم1350)

’’عمرے کے بعدعمرہ ان کے درمیان میں ہونے والے گنا ہوں کے لیے کفارہ ہے اورسچے حج کابدلہ توصرف جنت ہی ہے۔‘‘ (بخاری، رقم 1683۔مسلم، رقم1349)

تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حج کے بعد بھی انسان انسان ہی رہتا ہے ، فرشتہ نہیں بنتا۔کوئی شخص اگر پوری نیک نیتی کے ساتھ حج ادا کر لے تب بھی بحیثیت انسان یہ متوقع ہے کہ وہ گناہ کا ارتکاب کرے گا۔اصل بات یہ ہے کہ وہ اس گناہ کے بعد توبہ کرتا ہے یا نہیں ۔ یاد رکھیے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والا شخص گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہے ۔

وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھر سنبھل گیا

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب قرآن کریم میں اپنے بندوں کو یہ امید دلائی ہے کہ وہ بڑ ے سے بڑ ے گناہ کے بعد بھی مایوس نہ ہوں ، بلکہ اس کی طرف رجوع کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا پائیں گے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’اے نبی کہہ دو:اے میرے بندوں ، جنھوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ تمام گنا ہوں کوبخش دے گا، وہ بڑ اہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔اور رجوع کرواپنے رب کی طرف اوراس کے مطیع بن جاؤقبل اس کے کہ تم پرعذاب آدھمکے ، پھرتمھاری کوئی مددنہیں کی جائے گی‘‘(الزمر39:53-54)

جو لوگ گناہ کا ارتکاب کر لیتے ہیں اور فوراً توبہ کرتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے گناہ لازماً بخش دیے جاتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اللہ پرتوبہ قبول کرنے کی ذمہ داری توانہی کے لیے ہے جوجہالت سے مغلوب ہوکربرائی کا ارتکاب کربیٹھتے ہیں پھرجلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں ۔وہی ہے جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے ۔اوراللہ علم والا اورحکمت والا ہے ۔اوران لوگوں کی توبہ نہیں ہے جوبرابربرائی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سرپر آن کھڑ ی ہوئی توبولاکہ اب میں نے توبہ کر لی۔اورنہ ان لوگوں کی توبہ ہے جوکفرہی پرمرجاتے ہیں ۔ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیارکر رکھا ہے۔‘‘(النسا4 : 17-18)

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ مسلسل گناہ کرنے والوں کو اس آیت میں شدیدوعید دی گئی ہے ۔آپ نے اپنے سوال میں خاص طور پر گناہ کبیرہ کا ذکر کیا ہے ۔ قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان تین سب سے بڑ ے گنا ہوں کا ارتکاب کر لے اور اس کے بعد توبہ کر لے ، تب بھی اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اورجونہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبودکوپکارتے اورنہ اس جان کو، جس کواللہ نے حرام ٹھہرایا، بغیرکسی حق کے قتل کرتے اورنہ بدکاری کرتے ۔اورجوکوئی ان باتوں کامرتکب ہو گاوہ اپنے گنا ہوں کے انجام سے دوچارہو گا۔قیامت کے دن اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیاجائے گا اوروہ اس میں خوارہوکرہمیشہ رہے گا۔مگروہ جوتوبہ کر لیں گے ، ایمان لائیں گے اورعمل صالح کریں گے تواللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اوراللہ بڑ ابخشنے والا، مہربان ہے۔اورجوتوبہ کرتا ہے اورعمل صالح اختیارکرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی طرف لوٹتا ہے۔‘‘(الفرقان25:68-71)

غور فرمائیے کہ ان آیات کے آخری حصے میں توبہ ، تجدید ایمان اور نیکیوں پراستقامت کا صلہ یہ بیان ہورہا ہے کہ انسانوں کی برائیاں بھلائیوں سے بدل جاتی ہیں ۔یہ پروردگار عالم کی وہ رحیم ، کریم اور شفیق ہستی ہے جس سے نہ کبھی مایوس ہونا چاہیے اور نہ کبھی توبہ کرنے میں دیر کرنی چاہیے ۔ چاہے حج کے بعد کوئی گناہ کیا ہو یا اس سے پہلے ۔

جہاں تک حج پر دوبارہ جانے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہے اور اس بات سے کہ انسان وہاں جانے کے لیے عالم اسباب میں کیا اہتمام کرتا ہے ۔ حج کے بعد اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور فوراًتوبہ کرتا ہے تو اس مطلب یہی ہے کہ اس کی زندگی بدل گئی ہے ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان سرکشی ، غفلت اور بے پروائی کا رویہ اختیار کر لے ۔یہ وہ زندگی ہے جو قابل مذمت ہے ، چاہے حج سے پہلے ہو یا بعد۔ لیکن جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرتا ہے وہ اپنے مومن ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور جنت کی منزل کا حق دار ہے ۔

ہم نے طے کیں اس طرح سے منزلیں

گر پڑ ے گر کر اٹھے اٹھ کر چلے

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author