حج میں قربانی کی نوعیت

سوال:

ہم حج کے لیے نکلتے ہیں۔ حج کے یہ ارکان ہیں: ۱۔ احرام باندھنا۔ ۲۔ منیٰ میں جانا اور قیام کرنا۔ ۳۔ عرفات کی طرف جا کر وقوف کرنا۔ ۴۔ مذدلفہ میں رات کا قیام۔ ۵۔ واپس منیٰ میں آنا اور رمی جمرات میں حصہ لینا۔ ۶۔ قربانی۔ ۷۔ بال کٹوانا اور احرام کھولنے کے بعد کپڑے بدلنا۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں نہیں کی جاتی بلکہ یہ عمرہ کے کے بعد احرام اتارنے کا ایک دم ہے۔ اگر عمرہ کے بعد آپ حج تک احرام باندھے رکھتے ہیں تو قربانی نہیں ہو گی۔ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ نے حج میں کی جانے والی قربانی کے حوالے سے پوچھا کہ اس کی کیا نوعیت ہے۔

حج کے بعد قربانی ایک نفلی عمل کے طور پر موجود ہے۔ اس کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ قربانی کے جانور ساتھ لے جائے جائیں جنھیں ہدی کے جانور کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ کام صرف مقامی حاجی کر سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہاں سے جانور خرید کر قربانی کی جائے۔ پاکستان سے بہت ہی کم لوگ اس پر عمل کرتے ہوں گے۔ عام طور پر ہمارے لوگ کفارے کی قربانی کرتے ہیں جس کے لیے آپ نے دم کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ قربانی ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو اکٹھا کرنے کا کفارہ ہے۔ آپ نے یہ بات ٹھیک نہیں لکھی کہ اگر عمرہ کرکے احرام نہ اتارا جائے تو یہ قربانی نہیں کرنی پڑتی۔ یہ قربانی حج کے ساتھ عمرے کو جمع کرنے کی قربانی ہے خواہ ایک ہی بار احرام پہن کر کیے جائیں یا الگ الگ احرام پہنے جائیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author