حضور صلی اللہ علیہ وسلم دین کا تنہا ماخذ

سوال:

آپ لوگ اکثر یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دین کا تنہا ماخذ ہیں۔ اس کی دلیل کیا ہے ۔ہم نے تو یہ سنا ہے کہ دین کا ماخذ قرآن و سنت ہیں۔ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اجماع اور قیاس بھی دین کے ماخذ ہیں۔ مہربانی کر کے تفصیل سے وضاحت کریں؟


جواب:

دین اس دنیامیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا نام ہے ۔اس ہدایت کو انسانوں تک پہنچنانے کا اہتمام اس نے پہلے دن ہی سے کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ پہلے انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو نبی بھی بنادیا۔ اس کے بعد انسانوں تک ہدایت پہنچانے کا اس نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ہر ہر شخص پر وحی نازل کرے یا اس کے فرشتے کتابیں لے کر لوگوں کے بیچ میں اتریں اور لوگ کتابیں پڑ ھنے لگیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ انسانوں میں سے بعض لوگوں کا انتخاب کر لیتے ہیں اور ان پر وحی نازل کرتے ہیں ۔ پھر یہ نبی اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔
یہ انبیا مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں مبعوث ہوتے رہے ۔ان پر کتابیں بھی اتریں اور انہیں شریعت سے بھی نوازا گیا۔یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا خاتمہ ہو گیا۔آپ کو آخری کتاب قرآن کریم دی گئی اور آپ کو وہ شریعت عطا ہوئی جو قیامت تک انسانوں کے لیے رہنمائی ہے ۔پچھلے نبیوں کی تعلیمات میں جو کچھ باقی رکھنا مقصود تھا یا اس میں جو ترمیم وتبدیلی اور اضافہ پیش نظر تھا وہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے کر دیا اور پھر نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔
ٍ اس پورے پس منظر میں ہم لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضور دین کا تنہا ماخذ (Source)ہیں ۔اس کی دلیل بالکل واضح ہے۔ یعنی یہ حضور کو اللہ کا نبی اور رسول ماننے کا لازمی نتیجہ ہے ۔ جب ایک انسان آپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیتا ہے تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں باقی رہتا کہ اس کے نزدیک آپ دین کا ماخذ بن جائیں ۔اس لیے کہ دین اگر اللہ کی ہدایت کا نام ہے تو یہ ہدایت وحی کے ذریعے سے وہ ہر شخص کو نہیں دیتا ، بلکہ انبیا کو دیتا ہے ۔آخری دفعہ یہ ہدایت حضور کو دی گئی اور اس کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ بند کر دیا گیا ۔آج اگر ہمارے نزدیک قرآن اللہ کی کتاب ہے ، نماز اگر اس کی عبادت کا طریقہ ہے ، جنت و جہنم کوماننا اگر اس کا مطالبہ ہے اور اسلام اگر ا س کا دین ہے تو یہ بات ہمارے لیے صرف اس وجہ سے قابل اعتماد ہے کہ حضور کی رسالت پر ہمارا ایمان ہے ۔
ختم نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ حضور کا دیا ہوا دین محفوظ رہے ۔چنانچہ قرآن و سنت کی شکل میں دین کے عقائد، دلائل، قوانین، عبادات اور عملی ڈھانچے کو تا قیامت محفوظ کر دیا گیا ہے ۔ لیکن یہ سب ہم حضور کی نسبت سے لیتے ہیں یعنی اگر آ پ دین کے کسی بھی عقیدہ اور عمل کو لے لیں تو پندرہ صدی سفر کرنے کے بعد آپ حضورتک جا پہنچیں گے اور جو سفر حضور تک نہ پہنچے وہ کبھی دین نہیں ہو سکتا۔
جہاں تک قرآن و سنت اور اجماع اور قیاس کا تعلق ہے توآپ بات ٹھیک نہیں سمجھے ۔ یہ ہمارے فقہا کی اصطلاح میں فقہ کے ماخذ ہیں نہ کہ دین کے ۔فقہ اور دین دو جدا چیزیں ہیں ۔دیکھیے اصل دین قرآن و سنت ہی ہوتا ہے ۔ اس کے بعد اہل علم اسے سمجھنے کا عمل شروع کرتے ہیں ۔ نئے مسائل پر اپنی رائے دیتے ہیں ۔ اس طرح فقہ وجود میں آتی ہے۔ مگر یہ دین نہیں ہوتی۔ وگرنہ ہمارے چاروں اماموں کا دین الگ الگ ہوجاتا۔ ان کی فقہ الگ الگ ہے ، دین سب کا اسلام ہی ہے ۔
حضور کوماخذ دین ماننے کے نتائج بہت گہرے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور کے علاوہ کسی شخص کی بات دین نہیں بن سکتی ۔اگر کسی کی بات حضور کے لائے ہوئے دین کے خلاف ہے تواسے فوراً رد کر دیا جائے گا۔ اگر اس کے مطابق ہے تو دین کے ایک فہم کے طور پر تو قبول کیا جا سکتا ہے ، مگر پھر بھی یہ بات دین نہیں بن جائے گی۔اسی لیے اس فہم سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور دین کا اس سے زیادہ بہتر فہم پیش کیا جا سکتا ہے ۔
عملی طور پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تنہاماخذ ہونے کا اقرار ہمیں ہر طرح کی فرقہ بندی، تشدد، ا تنہا پسندی اور تعصبات سے بچالیتا ہے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور کے سوا ہر کسی سے اختلاف ہو سکتا ہے اورہر کسی کی بات غلط ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ بڑ ے سے بڑ ے عالم کی رائے بھی بس ایک رائے رہتی ہے ۔ وہ کسی فرقہ کی بنیاد نہیں بن پاتی۔ چنانچہ لوگ ہر کسی کی بات دین کا عالم سمجھ کر سنتے ہیں اور جس کی بات قرآن و سنت سے قریب لگے قبول کر لیتے ہیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author