حضرت ابو طالب سے متعلق ایک فتویٰ

سوال:

میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہو جو کہ مفتی احمد رضا خان قادری بریلوی کا ایک مشہور رسالہ سے متعلق ہے جس کا ویب لنک پیش خدمت ہے:

http://www.razanw.org/modules/alahazratbooks/item.php?itemid=89&page=630

مفتی احمد رضا خان بریلوی نے یہ رسالہ حضرت ابو طالبؓ کے نعوذباللہ کافر ہونے کے بارے میں بطور دلیل لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت ابو طالب ایک کافر تھے اور پکے جہنمی ہیں۔

میں آپ سے یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ آپ اس رسالہ کو ضرور پڑھیں اور احمد رضا بریلوی کے اس فتویٰ کو رد کرنے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔اور اس کی تصدیق و تنقید کے حوالے سے اس پر روشنی ڈالیں۔

ذیل میں میں چند کتابوں کا حوالہ دیتا ہوں جسے پڑھ کر آپ ابو طالب کے بارے میں بیان کی گئی فحش گوئیوں کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں۔

١۔ شرح المطالب فی مبحث ابی طالب

٢۔ فتویٰ رضویہ جدید، جلد ٢٩، صفحہ ٦٥٥ تا ٧٤٩


جواب:

آپ نے جس مسئلے کے بارے میں استفسار فرمایا ہے، اس کے بارے میں مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم مختلف راے رکھتے ہیں اور اس مسئلے پر اتنی تفصیل سے کلام کیا جاچکا ہے کہ اس پر مزید کوئی رائے دینے سے کسی فائدے کی توقع نہیں ہے۔ تاہم جو لوگ نبی کریم عليہ ؐو سلم کے چچا ابوطالب کو مسلمان نہیں سمجھتے وہ بعض اخبارِ آحاد اور تفسیری روایات کی روشنی میں یہ راے رکھتے ہیں کہ وہ آخر وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ اس کے برخلاف جو لوگ ان کے ایمان لانے کے قائل ہیں جن میں زیادہ تر شیعہ حضرات شامل ہیں، ان کے پاس اپنے اس نقطہ نظر کے اپنے دلائل ہیں۔ ہم جناب ابوطالب کے کفر و ایمان کی بحث میں پڑے بغیر ایک اصولی بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل سے نہ کسی کی کوئی نیت پوشیدہ رہ سکتی ہے اور نہ کوئی عمل۔ وہی اپنے بندوں پر سب سے زیادہ مہربان اور کرم کرنے والا ہے۔ اہلِ ایمان کو سب سے زیادہ سچی محبت قرآن کے مطابق اسی سے رکھنی چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

''اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریکِ (خدا) بناتے ہیں اور اُن سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ توسب سے بڑھ کر خدا ہی سے محبت کرتے ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ اُس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذابِ (الہٰی) دیکھ لیں گے اور اُن کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔''، (بقرہ165-66:2)

ان آیات میں جو بات کہی جارہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہر صاحبِ ایمان کو اسے گرہ سے باندھ لینا چاہیے کہ محبت کی حق دار سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ قرآنِ مجید اس کے بارے میں اس یقین دہانی سے بھرا ہوا ہے کہ جو شخص اس پر ایمان لاتا اور شرک سے بچتا ہے، وہ آخرت میں اپنا اجر پالے گا۔ لیکن اگر کسی نے اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو اپنی امیدوں کا مرکز بنارکھا ہے تو یہ آیات ایسے شخص کے بارے میں واضح ہیں کہ قیامت کے روز اسے ذلت اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور ايسے لوگ پیشوا ہوں يا پيروکار، قیامت کے روز ايک دوسرے سے بيزاری ظاہر کریں گے۔

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ جس شخص نے خدا کے ساتھ وفا کی اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاری، وہی قیامت کے دن فلاح پائے گا، چاہے دنیا میں اس کے بارے میں کیسی ہی راے قائم کرلی گئی ہو۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو دنیا میں ملنے والی تائید و حمایت کسی شخص کے کچھ بھی کام نہ آسکے گی۔ باقی جہاں تک خاص اس مسئلے کا سوال ہے تو اس سلسلے میں ہم قرآن کے دو مقامات میں اپنے لیے بڑی رہنمائی پاتے ہیں۔ آیات یہ ہیں:

''یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے اُن کی پرسش تم سے نہیں ہوگی۔''، (بقرہ134:2)
''فرعون نے پوچھا کہ کہ پہلی جماعتوں کا کیا حال ہوگا؟موسیٰ نے جواب دیا کہ اُن کا علم میرے پرودگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے)۔ میرا پرودگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔''، (طٰہٰ51-52:20)

پہلی آیت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسانوں کو اپنے عمل کی فکر کرنی چاہیے۔ دوسروں نے جو کچھ بھی کیا، خواہ اچھا یا برا، اس کا بدلہ انہی کو ملے گا۔ ہم سے اس کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ دوسری دو آیات حضرت موسیٰ اور فرعون کے مابین ہونے والے مکالمے کا ایک حصہ ہے۔ فرعون نے اپنے آبا و اجداد کے متعلق حضرت موسیٰ کی رائے درےافت کی ؟ حضرت موسیٰ نے اس سوال کا جو جواب دیا ہے وہی ابوطالب کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے لیے ہمارا جواب ہے کہ ہمارا پرودگار نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ وہ ہر شخص کے ساتھ عدلِ کامل کا معاملہ فرماے گا۔ کسی کے معاملے میں اگر نرمی اور رعایت کی کوئی گنجائش ہوئی تو میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جتنی محبت کرتا اور ان پر جتنا مہربان ہے کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس معاملے کو اللہ ہی پر چھوڑ دیجیے اور اپنی تمام تر محبت و عقیدت کا رخ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف موڑ دیجیے۔ اس کے بعد آپ کو کوئی تردد اور پریشانی نہیں ہوگی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author