حضرت عيسی عليہ السلام كي آمد ثاني

سوال:

غامدی صاحب نے یو ٹیوب میں اپنی ایك گفتگو میں كہا ہے كہ حضرت عیسی علہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے۔ جبكہ قرآن مجید میں حضرت عیسی كو قیامت كی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ جس كا مطلب تو یہی ہے كہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔


جواب:

آپ كی ای میل ملی پڑھی تو خوشی ہوئی كہ آپ دین كی باتوں كى لیے اپنے ہاں جذبہ ركھتی ہیں- آج كل دین كے بارے میں بے حسی سی پائی جاتی ہے- آپ كا اس بات پر شكر گزار ہوں كہ آپ نے اس نیك مقصد كے لیے وقت نكالا ، اور ای میل لكھی۔

دیكھیے میری بہن غامدی صاحب كی رائے غلط بھی ہو سكتی ہے اور درست بھی ، اصل چیز دلائل (arguments) ہیں ۔ اور ما شاء اللہ آپ نے بھی دلیل ہی سے بات كی ہے۔ آئیے پہلے آپ كی دلیل كا جائزہ لیتے ہیں ، اس كے بعد غامدی صاحب كی دلیل كو دیكھیں گے۔ آپ نے پہلی دلیل سورۂ الزخرفكی یہ آیت بیان كی ہے: 


وَإِنَّه لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِها وَاتَّبِعُونِ هذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ (الزخرف 43: 61)

اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے ۔(ترجمہ فتح محمد جالندھری)


یہ آیت صرف اس صورت میں غامدی صاحب كی رائے كے خلاف دلیل بنے گی جب اس میں یہ لكھا ہو كہ ان كا دوبارہ آنا قیامت كی نشانی ہے۔ قرآن تو بس یہ كہہ رہا كہ وہ خود قیامت كی دلیل ہیں، اور قرآن یہ بھی كہہ رہا ہے كہ وہ اس وقت بھی قیامت كی نشانی ہیں جب قرآن نازل ہو رہاتھا۔اس لیے كہ اس آیت میں نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كو مخاطب كركے كہا گیا ہے كہ آپ لوگوں سے كہیں كہ چونكہ حضرت عیسی قیامت كی دلیل ہیں تو تم اس دلیل كے بعد قیامت كے بارے میں شك نہ كرو۔قرآن نے یہ نہیں كہا كہ وہ جب دوبارہ آئیں گے، اس وقت نشانی ہوں گے۔ اس لیے یہ واضح سی بات ہے كہ اس آیت كا تعلق سیدنا مسیح علیہ السلام كی دوبارہ آمد سے ہر گز نہیں ہے۔ یہ ان كی پہلی آمد ہی سے متعلق ہے۔ وہ اس طرح سے كہ انہوں نے مردوں كو زندہ كیا۔ مردوں كا زندہ ہو سكنا قیامت كے حق میں دلیل و نشانی ہے۔یعنی جب مردے ایك نبی كے ہاتھوں زندہ ہو سكتے ہیں ، تو اللہ كے كہنے پر كیسے نہیں ہوں گے !


وَإِذْ قَالَ الله يا عِيسَى ابْنَ مَرْيمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَأُمِّی إِلَهينِ مِن دُونِ الله قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يكُونُ لِی أَنْ أَقُولَ مَا لَيسَ لِی بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُه فَقَدْ عَلِمْته تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيوبِ (المائدة 5: 116

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے

مَا قُلْتُ لَهمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِی بِه أَنِ اعْبُدُواْ الله رَبِّی وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيهمْ شَهيدًا مَّا دُمْتُ فِيهمْ فَلَمَّا تَوَفَّيتَنِی كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيهمْ وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَیءٍ شَهيدٌ (المائدة 5: 117

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے (ترجمہ فتح محمد جالندھری



غامدی صاحب كی دلیل یہ ہے كہ جب آدمی صفائی پیش كرتا ہے تو ہر چیز بیان كردیتا ہے، جو اس كے حق میں جاتی ہو۔ یہاں ہونا چاہیے تھا كہ سیدنا مسیح یہ فرماتے كہ میں جب تك ان میں رہا، یہی كہتا رہا ، اور ابھی قیامت سے پہلے بھی میں دنیا میں گیا میں نے تو تب بھی یہی كہا تھا۔ لیكن حیرت ہے كہ ایك شخص دو دفعہ دنیا میں آیا ہو اور وہ ایسا بیان دے كہ جس سے ایك ہی دفعہ آنے كا گمان ہو تا ہو۔ سیدنا مسیح كے ان الفاظ پر دھیان دیجے: وَكُنتُ عَلَيهمْ شَهيدًا مَّا دُمْتُ فِيهمْ فَلَمَّا تَوَفَّيتَنِی كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيهمْ (جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا

یہ الفاظ یہ بتا رہے ہیں كہ سیدنامسیح ایك ہی دفعہ دنیا میں آئے۔ اگر وہ قیامت كے قریب آئے ہوتے تو كہتے كہ میں ابھی دوبارہ ان كی اصلاح كركے آیا ہوں۔

واضح رہے كہ یہاں لوگوں كے بارے مںر سوال مںة ہے بلكہ سوال خود سدینامسیح كی تعلیم كے بارے میں ہے اس لیے جب الزام ان پر آرہا ہے تو پھر انھیں مكمل صفائی ہی پیش كرنا چاہیے۔ یعنی ان سے یہ نہیں پوچھا گیا كہ لوگ كیا كرتے رہے یہ پوچھا گیا ہے كہ انھوں نے كیا تعلیم دی۔ اسی لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی كا حوالہ دیا كہ جب تك میں ان میں رہا میں نے توصحیح بات ہی كہی۔


آپ نے جو یہ لكھا ہے كہ یہ سوال اس وقت كے اسرائیل كے بارے میں تھا، اس لیے عیسی علیہ السلام نے انھی سے متعلق جواب دیا ہے۔

یہ بات ایك غلط فہمی پر مبنی ہے۔ سیدنا مسیح اور سیدة مریم كو الہ سیدنا مسیح كی زندگی میں تو بنایا ہی نہیں گیا۔ یہ معاملہ تو ان كے اٹھا لیے جانے كے بعدہی ہوا۔ اس لیے اگر صحیح جواب بنتا تھا تو یہی كہ میں نے پہلے دورمیں بھی یہی كہا اور اب بعد والے دور میں بھی انھیں صححہ بات ہی بتا كے آیا ہوں۔میرے بعد كیا ہوا میں نے جانتا۔

آئے اب ان آیات كا ذرا غور سے جائزہ لیتے ہیں۔ غامدی صاحب جس آیت كی وجہ سے وفات مسیح علیہ السلام كے قائل ہیں ، وہ سورہ آل عمران كی یہ آیت ہے:

إِذْ قَالَ الله يا عِيسَى إِنِّی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَی وَمُطَهرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يوْمِ الْقِيامَةِ ثُمَّ إِلَی مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَينَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيه تَخْتَلِفُونَ (3: 55

اس وقت اللہ نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا۔(ترجمہ فتح محمد جالندھری)

اس آیت میں درج ذیل باتیں نوٹ كرنے كی ہیں:

1۔ اس میں مُتَوَفِّيكَ كے الفاظ آئے ہیں ، جن كےمعنی وفات دینے كے ہیں۔پورے قرآن مجید میں یہ اسی معنی میں آیا ہے۔تو سب مترجمین نے اس جگہ كے سوا سب جگہ اس كا ترجمہ وفات ہی كیا ہے۔ تو كیا وجہ ہے كہ یہاں اس كا ترجمہ مختلف كیا جائے۔ اس آیت كی رو سے سیدنا مسیح كے ساتھ دو كام ہوئے۔ ہماری وفات كی طرح آپ كی وفات ہوئی ، لیكن ہمارا جسم زمین پر رہ جاتا ہے، جسے لوگ دفن كرتے ہیں ،سیدنا مسیح كے ساتھ دوسرا معاملہ یہ ہوا كہ ان كے جسد خاكی كو زمین پر نہیں چھوڑ ا گیا بلكہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔یہ اس لیے كیا گیا تاكہ دشمنوں سے آپ كو محفوظ ركھا جائے ، جیسا كہ آیت میں آگے بتایا گیا ہے۔یہی آپ كی وفات كا معجزانہ پہلو ہے۔


2۔یہ قیامت تك كا پروگرام بتایا گیا ہے، جس میں ان كے خدا كے حضور دوبارہ اٹھائے جانے تك كے حالات بتا دیے گئے ہیں، یہ حالات آیت كے مطابق یہ ہیں:

ا۔ وفاتِ سیدنا مسیح

ب ۔ رفع آسمانی(آسمان كی طرف جسد خاكی كا اٹھا لیا جانا)

ج۔ دشمنوں كی شر انگیزیوں سے نجات

د۔ سیدنا مسیح كے پیرو كاروں كا ان كے منكروں پر قیامت تك غلبہ

ہ۔قیامت كے دن اختلافات كا فیصلہ

دیكھیے قیامت تك كے اس پروگرام میں كہیں بھی ان كی آمد ثانی كا حوالہ و اشارہ تك نہیں ہے۔ جس طرح سے یہ تفصیلی پروگرام بتا یا گیا ہے، مناسب یہ تھا كہ یہاں ان كی آمدِ ثانی كا ذكر ہوتا۔یعنی اس پروگرام كے مطابق قیامت سے پہلے ا ن كے آنے كا كوئی امكان نہیں ہے۔ اگر ہم قرآن كو حاكم مانتے ہیں ، تو اس كے اس بات كے آگے ہمیں سر جھكانا ہو گا كہ اس نے سیدنا مسیح كے بارے میں قیامت تك كا جو پروگرام دیا ہے ، اس میں ان كے دوبارہ آنے كا كوئی ذكر نہیں ہے۔

اب ایك دلچسپ بات كی طرف آپ كی توجہ مبذول كرانا چاہتا ہوں۔ دیكھیے مُتَوَفِّیكَ كا لفظ سورہ آل عمران میں استعمال ہوا ہے، جس میں آپ كے ساتھ اللہ كی طرف سے ہونے والے معاملے كا پہلا حصہ (episode)بتایا گیا ہے۔جب اللہ تعالی نے ان سے قیامت كے دن یہ سوال كیا كہ آپ نے كہا تھا كہ میں اور میری ماں الہ ہیں ، تو سیدنا مسیح اسی لفظ (تَوَفَّیتَنِی)كو استعمال كیا ہے۔ جو اس بات كا واضح ثبوت ہے كہ سیدنا مسیح اس مُتَوَفِّیكَ كے بعد دنیا میں نہیں آئے۔

قرآن كے ایك اور مقام كی طرف آپ كی توجہ مبذول كرانا چاہتا ہوں یہ سورہ مریم ہے، پہلے آیت 15 پر نگاہ ڈالیے

وَسَلَامٌ عَلَيه يوْمَ وُلِدَ وَيوْمَ يمُوتُ وَيوْمَ يبْعَثُ حَيا (19:15

اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ ان پر سلام اور رحمت ہے


اسی سورہ كی آیت 33 ہے

وَالسَّلَامُ عَلَی يوْمَ وُلِدتُّ وَيوْمَ أَمُوتُ وَيوْمَ أُبْعَثُ حَيا (19: 33

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے


آیت پندرہ میں سیدنا یحی علیہ السلام كی زندگی كے تین بڑے مراحل كا ذكر ہے اور 33ویں آیت میں سیدنا مسیح علیہ السلام كی۔دونوں كی حیات طیبہ كے تین تین مرحلے موت اور زندگی ہی كے حوالے سے بتائے گئے ہیں، یعنی ولادت ، موت اور قیامت كے دن دوبارہ جی اٹھنا۔ یہاں یہ ضروری تھا كہ سیدنا مسیح كی موت و حیات ہی سے متعلق ایك سوال ہے كہ وہ قا مت كے قریب دوبارہ آئںآ گے تو ہونا تو یہ چاہیے تھا كہ اللہ تعالی سيدنا مسیح كی حیات میں ایك مرحلہ بڑھا دیتے۔ سيدنا مسیح كی حيات ِ پاك كے مراحل یوں ہوتے:

''اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور [جس دن دوبارہ دنیا میں بھیجا جاؤں گا،اور]جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے۔''

لیكن سیدنا یحی و مسیح علیہما السلام كی حیات كے ایك جیسے مراحل یہ بتا رہے ہیں كہ مسیح علیہ السلام كی حیات ویسی ہی ہو گی جیسی سیدنا یحی كی۔ نہ اُنھوں نے دوبارہ آنا ہے اور نہ اِنھوں نے۔

اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں كہ قرآن مجید نے نہ صرف ان كی آمد كا ذكر نہیں كیا ، بلكہ اس میں ایسے مقامات موجود ہیں ، جو ان كے دوبارہ آنے كے بارے میں منفی اطلاع دیتے ہیں۔ اس لیے از روئے قرآن یہ ماننا مشكل ہے كہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔البتہ كوئی شخص یہ رائے ركھ سكتا ہے كہ چونكہ صحح احادیث ميں اس كا ذكر ہے اس لےآ ميں قرآن كے خلاف اس نظریےكومانتا رہوں گا۔ تو ٹھكا ہے ، ليكن ہم اس كی رائے سے اختلاف ركھنے كا تو حق ركھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے كہ قرآن كے مقابلے ميں احادیث كو ترجيح دی جائے یا حدیث كے مقابلے ميں قرآن كو؟ واللہ اعلم بالصواب۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Hameed was born on October 10 1965 in Pakpattan. He did his MA in Urdu and another MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He studied Arabic grammar, language and literature. He leant the holy Qur’an from Mr Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He studied the Muwatta of Imam Malik, the celebrated hadith compilation and Nuzhah al-Fikr, the famous work on Hadith criticism from Hafiz Ata ur Rehman an erudite Hadith scholar. For advanced studies in religious disciplines he has remained a student of Javed Ahmad Ghamidi since 1987. He has deeply studied the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.