حضرت مريم عليہ السلام کي الوہيت

سوال:

آيت "ءانت قلت للناس اتخذوني و امي الهين من دون الله " (المائدہ5: 116) سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مسيحيوں نے حضرت مريم کو الہ بنايا۔ ہم ديکھتے کہ مسيحيوں نے عقيدۂ تثليث ميں حضرت مريم کو شامل نہيں کيا۔ آيت کاصحيح مفہوم کيا ہے؟


جواب:

حضرت مسيح عليہ السلام سے سوال ماں کو معبود قرار دلوانے کے حوالے سے کيا گيا ہے۔ تثليث ميں حضرت مريم کے شامل ہونے يا نہ شامل ہونے سے اس سوال کا کوئي تعلق نہيں ہے۔ مسيحي گروہ حضرت مريم عليہ السلام کي الوہيت کے قائل رہے ہيں اور اب بھي ہيں۔ قرآن مجيد کا سوال اسي حوالے سے ہے۔ مولانا مودودي مرحوم نے حضرت مريم کي پوجا کيے جانے کي تاريخ بيان کرتے ہوۓ لکھا ہے:

"431 ء ميں پوري عيسائي دنيا کے مذہبي پيشواؤں کي ايک کونسل افسس کے مقام پر منعقد ہوئي جس ميں مسيح عليہ السلام کي الوہيت اور حضرت مريم کے مادر خدا ہونے کا عقيدہ چرچ کا سرکاري عقيدہ قرار پايا۔ عيسائيوں نے اللہ تعالي کے ساتھ صرف مسيح اور روح القدس ہي کو خدا بنانے پر اکتفا نہيں کيا ، بلکہ مسيح کي والدہ ماجدہ حضرت مريم کو بھي ايک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مريم عليہا السلام کي الوہيت يا قدوسيت کے متعلق کوئي اشارہ تک بائيبل ميں موجود نہيں ہے۔ مسيح کے بعد ابتدائي تين سو برس تک عيسائي دنيا اس تصور سے بالکل ناآشنا تھي۔ تيسري صدي کے آخري دور ميں اسکندريہ کے بعض علماۓ دينيات نے پہلي مرتبہ حضرت مريم کے ليے " ام اللہ " يا " مادر خدا " کے الفاظ استعمال کيے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ الوہيت مريم کا عقيدہ اور مريم پرستي کا طريقہ عيسائيوں ميں پھيلنا شروع ہوا ۔ ليکن اول اول چرچ اسے باقاعدہ قبول کرنے کے ليے تيار نہ تھا ، بلکہ مريم پرستوں کو فاسد العقيدہ قرار ديتا تھا۔ پھر جب لسطوريس کے اس عقيدے پر کہ مسيح کي واحد ذات ميں دو مستقل جداگانہ شخصيتيں جمع تھيں ، مسيحي دنيا ميں بحث و جدال کا ايک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفيہ کرنے کے ليے 431 ء ميں شہر افسوس ميں ايک کونسل منعقد ہوئي اور اس کونسل ميں پہلي مرتبہ کليسا کي زبان ميں حضرت مريم کے ليے مادر خدا کا لقب اختيار کيا گيا ۔ اس کا نتيجہ يہ ہوا کہ مريم پرستي کا جو مرض اب تک کليسا کے باہر پھيل رہا تھا وہ اس کے بعد کليسا کے اندر بھي تيزي کے ساتھ پھيلنے لگا۔ حتي کے نزول قرآن کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے حضرت مريم اتني بڑي ديوي بن گئيں کہ باپ ، بيٹا اور روح القدس تينوں ان کے سامنے ہيچ ہو گئے۔"
(سيرت سرور عالم ، ج1 ، ص775۔776)

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author