حدود آرڈی نینس

سوال:

غامدی صاحب کے نزدیک حدود آرڈی نینس کا نیا بل شرعاً صحیح ہے یا نہیں؟


جواب:

غامدی صاحب اس بل سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک اس بل میں شریعت کی رہنمائی سے شدید انحراف موجود ہے۔ وہ اس بل میں موجود جن باتوں کو شریعت کی رہنمائی سے مختلف محسوس کرتے ہیں، ان میں چند درج ذیل ہیں:

1۔ اس بل میں مسلم اور غیر مسلم کی گواہی میں اور مرد و عورت کی گواہی میں فرق کیا گیا ہے، ان کے خیال میں یہ چیز شریعت سے ثابت نہیں ہے۔

2۔ اس بل کے مطابق زنا کی سزا سو کوڑے اور زنا بالجبر کی سزا موت ہے، جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک جرم کی دو نوعیتیں ہیں: ایک اس کی سادہ شکل ہے، جیسے زنا یا چوری اور دوسری وہ شکل ہے جس میں مجرم قانون کے خلاف قوت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس صورت میں زنا، زنا بالجبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور چوری، ڈاکے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک زنا بالجبر کی صورت میں مجرم کو دو سزائیں دی جائیں گی:ایک زنا کی سزا سو کوڑے اور دوسری حرابہ کی سزا جو سورۂ مائدہ کی آیت 33۔34کے تحت اسے دی جائے گی۔

3۔ غامدی صاحب کے نزدیک زنا کا مقدمہ رجسٹر کرنے کے لیے چار گواہوں کی شرط لازم ہے ، جبکہ اس بل کے مطابق دو گواہوں کے ملنے پر بھی مقدمہ رجسٹر کر لیا جائے گا۔


ایسے کچھ اور اختلافات بھی ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے آپ غامدی صاحب کی کتاب ''میزان'' کے باب''حدود و تعزیرات'' کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author