ہم جنسی

سوال:

میں ایک سوال کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

میرا ایک کزن ہے جو کہ ہم جنسی میں مبتلا ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ وہ فطری طور پر اپنے ہم جنسوں کی طرف زیادہ مائل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کی شادی کروا دی جائے تا کہ وہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اور کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ وہ اپنی اس خرابی سے نجات پا سکے۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میں ناروے میں مقیم ہوں اور یہاں تمام بچوں کو سکول میں سومنگ سکھائی جاتی ہے۔ جسے سیکھنے کے بعد بچوں میں قدرتی طور پر سومنگ کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے انہیں یا تو سومنگ بیچ پر جانا ہو گا یا سومنگ پول پر۔ ان دونوں جگہوں کا ماحول کچھ خراب سا ہوتا ہے۔ کیا ہم ایسی جگہوں پر بچوں کو سومنگ کی اجازت دے سکتے ہیں؟ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کے سوالوں کے جواب حاضر ہیں

آپ نے پوچھا ہے کہ آپ کے ایک کزن ہم جنسی میں مبتلا ہیں اور ان کے خیال میں وہ اس کی طرف فطری رغبت رکھتے ہیں۔ ان کے بھائی چاہتے ہیں کہ ان کی شادی کر دی جائےتاکہ وہ نارمل زندگی کی طرف واپس آسکیں ۔ ان کے مسئلے کا حل کیا ہے؟

عرض یہ ہے کہ مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ یہ کوئی فطری مسئلہ ہے۔ مغرب کے پراپیگنڈے کے زیر اثر اسے ایک فطری مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ جسم کی ساخت اور اخلاقی وجود دونوں اس کے فطری ہونے کی نفی کرتے ہیں ۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ نفس کی ساخت میں تقوی اور فجور دونوں رکھے گئے ہیں۔ اگر انسان میں فطرت یا شریعت سے انحراف کی صلاحیت نہ ہوتی تو آزادی‎ ترک و اختیار کا کوئی تصور نہ ہوتا اور نہ جزا و سزا کا۔ انسان جب گناہ کی طرف رغبت محسوس کرتا ہے تو یہ اس کی فطرت نہیں بلکہ فجور کا اظہار ہے۔

ان صاحب کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ یہ شادی کریں اور اپنے آپ کو یہ کہنا شروع کریں کہ ہم جنسی فطرت سے انحراف اور میرے رب کے حکم کی نافرمانی ہے ، پھر یہ دعا کریں کہ اے میرے رب مجھے اس گناہ سے بچنے کی توفیق دے میں شیطانوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

آپ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ بچوں کو سومنگ کے ماحول میں بھیجنا کیسا ہے؟

عرض یہ ہے کہ ماحول کی خرابی مغرب میں قیام کی قیمت ہے۔ آپ وہاں رہتے ہوئے جس حد تک خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ضرور رکھیں۔ لیکن جہاں کوئی مفر نہ ہو وہاں اس شعور کے ساتھ کہ یہ ایک نا پسندیدہ امر ہے ناگواری کے ساتھ اور ممکن حد تک بچتے ہوئے شریک ہوں اور یہی شعور بچوں میں بھی پیدا کریں اور اس کی آبیاری کرتے رہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author