ہم جنسی سے متعلق غامدی صاحب کی رائے

سوال:

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام میں ہم جنسی کی کیا حیثیت ہے؟ میری مراد اُن لوگوں سے ہے جو بچپن سے ہی اس مسئلے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ مسئلہ قدرتی نہیں ہے؟ میں اس مسئلے کے بارے میں اسلام کا نظریہ جاننا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیے کہ غامدی صاحب اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔


جواب:

آپ نے ہم جنسی کے بارے میں استاد محترم کی رائے دریافت کی ہے۔

ہم جنسی قرآن مجید میں بالصراحت جرم قرار دی گئی ہے اس لیے کوئی عالم دین اس کے جواز کا قائل نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ اس جرم کا مرتکب کس حد تک معذور ہو سکتا ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ قرآن مجید سے اس کے جرم ہونے کی یہی وجہ سامنے آتی ہے کہ یہ خلاف وضع فطری ہے۔ یہ بات اس وجہ سے شبے سے بالا ہے کہ مقعد کا راستہ کسی چیز کو اندر لینے کے لیے نہیں بنا ہوا ہے لہذا وہ اس طرح جنسی عضو کو اندر لینے کے لیے لعاب پیدا نہیں کرتا جس طرح اندام نہانی لعاب پیدا کرتی ہے۔ خالق نے جس عضو کے لیے جو فعل مقدر کیا ہے اسے اس کے لیے موزوں بھی بنایا ہے۔ دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ مقعد کا اندرونی حصہ غلیظ ہوتا ہے جو فاعل کے لیے ضرر رساں ہے۔ یہ بات بھی واضح کرتی ہے کہ یہ فعل خلاف وضع ہے۔

اس کی طرف رغبت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بعض لوگ اس کی طرف فطری طور پر راغب ہوتے ہیں۔ بلکہ اس کی وجہ انحراف کی طرف انسان کی رغبت ہے۔ جہاں انسان میں تقوی الہام ہوا ہے وہاں فجور بھی الہام ہوا ہے۔ یہ دونوں چیزیں آزمایش کے لیے ودیعت ہوئی ہیں۔ اگر انسان میں فجور کی اہلیت ہی نہ ہوتی تو وہ اس آزمایش کا اہل ہی نہ ہوتا اور سراپا صالحیت ہوتا۔

اگر ہم اس امکان کو مان لیں کہ کچھ لوگ اس طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں تب بھی یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ مردوعورت باہم فطری رغبت رکھتے ہیں اس کے باوجود زنا جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو ہم یہی کہیں گے کہ وہ اسی طرح اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھیں جس طرح صالحیں زنا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ جس طرح وہ جائز تعلق تک محدود رہتے ہیں اسی طرح یہ بھی جائز تعلق تک محدود رہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author