ہم کون ہیں؟

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ ہم کون ہیں؟ میں کچھ احادیث کا مفہوم بیان کرتا ہوں۔ ١۔ وہ مسلمان نہیں جس کے ہاتھ اور زبان دوسرے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائے۔٢۔ مومن سب کچھ ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ ٣۔ جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ ٤۔ عصبیت کی بنیاد پر لڑنے یا مرنے والا بھی مسلمان نہیں۔ ان احادیث کی روشنی میں بتائیے کہ انسانی معاشرہ میں ہماری حیثیت کیا ہے؟ اور حقیقت میں ہماری پہچان کیا ہے؟


جواب:

آپ کے سوال سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی بیان کردہ احادیث میں ایک بہترین مسلمان کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اسے مسلمانوں کی عملی زندگی میں نہ پاکر آپ الجھن کا شکار ہیں۔ جو احادیث آپ نے بیان کی ہیں نہ صرف وہ بلکہ قرآن مجید اور دیگر احادیث کے مطالعے سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اخلاقی معاملات بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ قرآن میں جگہ جگہ اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور تقریباً دو درجن مقامات پر اللہ تعالیٰ نے نقشہ کھینچ کر یہ بتایا ہے کہ ان کے مطلوب انسان کی بنیادی صفت ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ تنہا ایک اللہ کی عبادت کرنے والا اور اس کے بندوں کی خیرخواہی کرنے والا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے اگر صورت حال یہ نہیں ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب دین کو بیان کیا جاتا ہے تو قرآن و حدیث کے اس مطلوب انسان کی صفات کے بجائے بعض دیگر صفات کو بنیادی اہمیت کی حامل قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان میں سے بہت سی چیزیں دین کے مطالبات میں شامل ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس صورت حال کے خاتمے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ہم مایوس اور بے عمل ہوکر بیٹھ جائیں بلکہ ہمیں پوری قوت کے ساتھ دین کی حقیقی تعلیمات اور مطالبات کو لوگوں کے سامنے رکھتے رہنا چاہیے۔ آج یہ بات اجنبی ہے لیکن زیادہ وقت نہ گزرے گا کہ لوگوں پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ جس کے بعد انشاء اللہ لوگوں کا رویہ بدلے گا اور معاشرے میں ایمان و اخلاق کی مطلوب صفات کے حامل لوگوں کا غلبہ قائم ہوجائے گا۔

اس جواب کے کسی پہلو کے حوالے سے اگر کوئی بات مزيد وضاحت طلب ہے توآپ بلا جھجک ہم سے رابطہ کريں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بات درست ہے اسے ہمارے دلوں ميں راسخ فرمادے اور ہماری غلطيوں کو معاف فرماکر صحيح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے،آمين

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author