ہر کلمہ گو کے لیے جنت

سوال:

لوگوں میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا، وہ جنت میں ضرور جائے گا، کیا یہ بات صحیح ہے؟


جواب:

اصولاً تو یہ بات بالکل صحیح ہے کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا، وہ ان شاء اللہ ضرور جنت میں جائے گا، لیکن اس بات کا مطلب کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے زندگی میں ایک دفعہ بے خیالی سے کلمہ پڑھ لیا، وہ جنت میں جائے گا یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے زندگی میں دکھاوے کے لیے کلمہ پڑھ لیا ،وہ جنت میں جائے گایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے زندگی میں ایک دفعہ اخلاص کے ساتھ کلمہ پڑھ لیا خواہ اس کے بعد وہ زندگی بھر کلمہ کی مخالفت ہی کرتا رہے اور زندگی اس کے خلاف ہی گزارتا رہے، وہ ضرور جنت میں جائے گا یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے اخلاص کے ساتھ کلمہ پڑھا، پھر وہ اس پر قائم رہا (خواہ اس سے چھوٹے موٹے گناہ بھی ہوئے ہوں) تو ایسا شخص جنت میں ضرور جائے گا۔ ہمارے خیال میں یہ آخری بات ہی صحیح بات ہے۔ کلمہ کو پڑھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ اخلاص کے ساتھ ہمیشہ کے لیے پڑھا گیا ہو۔ خدا کو مخلص کلمہ گو ہی پسند ہے، غیر مخلص کلمہ گو پسند نہیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author