ہندو کون ہوتا ہے اور اس مذہب کا بانی کون ہے؟

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ ہندو کون ہوتا ہے؟اس مذہب کا بانی کون ہے؟ اور کیا آج پاکستان کے مسلمانوں کے اجداد سارے ہندو تھے ؟ کیا تاریخ میں ہندومت کا کوئی تذکرہ ہے ؟اگر ایک مذہب کا کوئی مطلب ہی نہیں بنتا ہو اور نہ اس میں دنیا کی زندگی کا کوئی طریقہ ہو یہ لوگ جب جان بوجھ کر الله کا انکار کرتے ہیں کیا یہ سزا کے لائق نہیں؟


جواب:

عام طور سے ہندومت کے پیروکار کو ہندو کہتے ہیں۔ ہندو مت یا ہندو دھرم جنوبی ایشیا اور بالخصوص بھارت اور نیپال میں غالب اکثریت کا ایک مذہب ہے جس کی بنیاد ہندوستان میں رکھی گئی- اس کا کوئی ایک بانی نہیں ہے کیوں کہ اگر دقت نظر کے ساتھ تجزیہ کیا جاۓ تو یہ کوئی ایک مذہب نہیں ہے بلکہ مختلف مذاھب اور عقائد کا ایک اجتماع ہے - خود لفظ ہندو ان کی مذہبی کتابوں میں موجود نہیں ہے – یہ ایک نسبتا جدید لفظ ہے جو دراصل ایک جغرافیائی اصطلاح کے طور پر مستعمل تھا- زیادہ تر محققین کے نزدیک لفظ ہندو 'سندھ' سے ماخوذ ہے اور سندھ کے اطراف میں بسنے والے لوگ ہندو کہلاے جاتے تھے اور لفظ ہندو اپنی اصل میں ایک فارسی لفظ ہے- تاہم جدید دور میں یہ لفظ ایک مذہب کے نام کے طور پر استعمال کیا جانے لگا - بعض ہندو محققین کی راۓمیں اس مذہب کا صحیح نام ' سناتن دھرم ' یا 'ویدک دھرم '(ویدی مذہب) ہونا چاہیے-

اس مذہب کا اگر تجزیہ کیا جائے تو اس کے قدیم ترین ماخذ کی حیثیت چار کتابوں کو حاصل ہے جنہیں 'وید' کہا جاتا ہے – ان کے نام ہیں :

1.رِگ وید(Rigved)

2.یَجُر وید(Yajurved)

3.سام وید (Samved)

4.اتھرو وید (Atharvaved)

ان کے علاوہ کئی اور کتابیں میں ان کے مذہب کی بنیاد ہیں – مثلا اپنشد (Upanishad)، راماین، مہا بھارت ، پران (Puran)، منو سمرتی وغیرہ - یہ نہایت اختصار سے اس مذہب کا تعارف تھا -

آپ نے جو سوال کیا ہے کہ کیا پاکستان میں مسلمانوں کے آباء و اجداد ہندو تھے تو یقینا ہندو تھے اور بعد میں اسلام کی دعوت کو قبول کیا - اکثریت نے ابھی بھی اسلام کو قبول نہیں کیا اور اب بھی اپنے پرانے مذہب کے پیرو ہیں-

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کیا انہوں نے جان بوجھ کر الله کا انکار کیا ہے تو یہ علم الله کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے – یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غلط فہمیوں کی وجہ سے اسلام قبول نہ کیا ہو – اگر غور سے دیکھا جاۓ تو عموما ایک انسان اسی مذہب کا پیرو ہوتا ہے جس میں اس کی پیدائش ہوئی ہوتی ہے – مذہب تبدیل کرنا اتنی آسان بات نہیں ہے – اس میں کافی مسائل ہوتے ہیں- خاص کر دور حاضر میں مسلمانوں نے اسلام کی جو تصویر دنیا کے سامنے پیش کی ہے اس سے اسلام کی دعوت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور دیگر اقوام کے لوگ ہمیں حریف اور دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں - یہ ہماری غلطی ہے کی ہم الله کے دین کا صحیح تعارف پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں –

ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کی اپنے علم کی حد تک دین کی صحیح بات دوسروں تک پہنچا دیں اور ان کے حق میں دعا کریں- سزا دینا ہمارا کام نہیں ہے – یہ صرف الله تعالی کا حق ہے – قرآن میں الله تعالی کا ارشاد ہے :

وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚأَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ

اگر تمھارا پروردگار چاہتا تو زمین پر جتنے لوگ ہیں، سب ایمان لے آتے۔ پھر کیا لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن ہو جائیں؟ (سوره یونس : آیت ٩٩ )

مطلب یہ ہے کہ جب خدا نے اِس معاملے میں جبر کو پسند نہیں کیا تو تمھیں بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ خدا اگر یہی چاہتا کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں تو شجر و حجر کی طرح انسانوں کو بھی اِس طرح پیدا کردیتا کہ وہ ہمیشہ اُس کے حکم کے پابند رہتے۔ مگر اُس نے ایسا نہیں چاہا۔ انسانوں کے معاملے میں اُس کی اسکیم یہ ہے کہ وہ آزادی اور اختیار کے ساتھ ایمان یا کفرمیں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ جنت کی ابدی نعمتیں اِسی ایمان کا صلہ ہیں۔ تمھارا فرض وہی ہے جو تم نے پورا کر دیا ہے۔ خدا نے تم پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کی ہے کہ لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لے آؤ۔

answered by: Mushafiq Sultan

About the Author

Mushafiq Sultan


Mushafiq Sultan, born in Kashmir (Indian Administered) in 1988, has been studying world religions from his school days. In 2009 Mushafiq came across the works of Ustaz Javed Ahmad Ghamidi and since then has been highly influenced by his thought. He has an exceptional interest in world religions, their philosophies and their mutual relations. He formally joined Al-Mawrid in 2016 as Assistant Fellow (Honorary). Presently, he is in charge of Al-Mawrid’s query service. In 2016, he published his first book ‘Muhammad (sws) in the Bible- An Exposition on Isaiah 42’. He has written articles on Islam, Christianity and Hinduism. He has also translated several articles of Javed Ahmad Ghamidi into Hindi.