حسینی سید سے نکاح

سوال:

میں چند سوال عرض کرنا چاہتا ہوں جو کہ درج ذیل ہیں:

1 ۔ کیا کوئی آدمی حسینی سیدہ سے شادی کر سکتا ہے خواہ وہ کوئی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔

2 ۔ اگر کوئی لڑکی کسی غیر حسینی سے نکاح کر لے تو کیا یہ نکاح درست ہو گا۔

3 ۔ اگر یہ نکاح جا‏ئز نہیں ہے تو کیا اس نکاح سے ہونے والی اولاد جائز ہو گی۔

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت پیش کریں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کے سوالوں کے جواب بالترتیب حاضر ہیں۔

1 ۔ کیا کوئی آدمی حسینی سیدہ سے شادی کر سکتا ہے خواہ وہ کوئی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو دین حسب ونسب کے فرق ختم کرتا ہے اسی دین کے ماننے والوں میں ایسے تصورات پائے جاتے ہیں۔

نکاح کے لیے شریعت کی لگائی ہوئی شرائط میں اضافہ کرنا دین سازی ہے اور دین سازی کسی طرح جائز نہیں ۔ شریعت میں کسی خاندان کی کسی خاندان میں شادی ممنوع نہیں ہے۔

2 ۔ اگر کوئی لڑکی کسی غیر حسینی سے نکاح کر لے تو کیا یہ نکاح درست ہو گا۔

یہ نکاح بالکل درست اور ان کا زن و شو کا تعلق بالکل جائز ہے ۔ اسے غلط قرار دینے کی شریعت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔

3 ۔ اگر یہ نکاح جا‏ئز نہیں ہے تو کیا اس نکاح سے ہونے والی اولاد جائز ہو گی۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا یہ نکاح ہر اعتبار سے جا‏‏ئز ہے اور ان کی اولاد بھی جائز ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author