حیا کا دائرہ

سوال:

حیا کیا ہے؟ کیا اس کا تعلق صرف جنس کے معاملات سے ہے؟ اگر نہیں تو وہ کیا امور ہیں جو حیا کے ذیل میں آتے ہیں؟


جواب:

حیا کا غالب اظہار جنس کے معاملات ہی میں ہوتا ہے ، لیکن حیا کا جذبہ جنس کے معاملات تک محدود نہیں ہے۔ انسان اصل میں اپنے ساتھ بری چیز کی نسبت پسند نہیں کرتا ، یہاں تک کہ وہ کم تر چیز کی نسبت سے بھی بچنا چاہتا ہے ، یہی جذبہ ہمارے ہاں حیا کے نام سے موسوم ہے۔ غالب کے ایک شعر سے دیکھیے کس خوبی سے یہ بات واضح ہوتی ہے:

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

اس اعتبار سے دیکھیے تو یہ تمام برائیوں ، خرابیوں ، نجاستوں اور کمزوریوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے بھی اس جذبے کی یہی جامعیت واضح ہوتی ہے۔ آپ نے عربوں میں معروف ایک کہاوت کی تعریف کرتے ہوئے ارشادفرمایا:

ان مما ادرک الناس من کلام النبوة اذا لم تستحی فافعل ما شئت. (بخاری، رقم 3296)'' کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں تک پہنچی ہیں، یہ بات انھی میں سے ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔''

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author