حضور سے زیادہ نمازیں پڑھنا

سوال:

آپ نے اپنے ایک درس میں فرمایا تھا کہ آدمی کو اتنی ہی نمازیں پڑھنی چاہییں جتنی حضور نے پڑھی ہیں ۔ لیکن حضور کی زندگی میں تو گناہ بہت کم تھے ، جبکہ ہماری زندگیاں گناہوں سے بھری پڑی ہیں۔ اس وجہ سے کیا ہمیں زیادہ نمازیںپڑھنے کی ضرورت نہیں ہے؟


جواب:

اسی طرح کا سوال جب بعض لوگوں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس طرح تم لوگ بدعتیں پیدا کر لو گے ۔ میں خدا سے، تمھارے مقابلے میں زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ تم کو جو نیکی بھی کرنی ہے ، وہ میری سنت اور میرے اسوہ کے مطابق کرو۔ چنانچہ ہمیں پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author