اجتہاد کے حوالے سے چند استفسارات

سوال:

کيا آج اجتہاد کا دروازہ بند ہے؟ اگر اجتہاد بند نہيں تو کيا شرائط پر پورا اترنے والا ہر مجتہد از خود اجتہاد کرنے کا مجاز ہو گا؟ اگر ہر مجتہد از خود اجتہاد کرنے کامجاز نہيں تو کس دليل سے۔ اگر مجاز ہے تو کيا ايک ملک ميں بيک وقت کئي مجتہد ہو سکتے ہيں؟ اگر ايک سے زيادہ مجتہد نہيں ہو سکتے تو واجدين شرائط ميں سے بعض کو بعض پر فضيلت دينے کا جواز کيا ہو گا؟ اگر کئي مجتہد ہو سکتے ہيں تو ايک ہي مسئلے کے کئي حل ہو سکتے ہيں جو باہم متضاد بھي ہو سکتے ہيں۔ اس صورت ميں امت کئي فقہي مسالک ميں بٹ کر پارہ پارہ ہو جائے گي۔

کيا مجتہد معصوم عن الخطا ہوتا ہے ، ظاہر ہے کہ نہيں ہوتا تو اس کا اجتہاد اور فيصلہ غير معصوم ہو گا جس ميں خطا کا امکان ہو گا۔ پھر ايسے ممکن الخطا فيصلے پر آدمي ايمان و عمل کي بنياد کيوں کر رکھے گا؟
کيا ايک مجتہد واجب الاطاعت ہوتا ہے؟ اگر نہيں ہوتا تو امت کو کسي اجتہادي حل کا پابند کيسے بنايا جا سکتا ہے؟
کيا اجتہاد کي اجازت فقہ اسلامي ہي ميں ہے يا اديان سابقہ بھي اس سے کام لے سکتے ہيں۔ نہيں لے سکتے تو کيوں اور اگر لے سکتے تو وہ اجتہاد سے اپنے دين ميں استمرار جاري کر سکيں گے۔ اس صورت ميں ايک شريعت کے بعد دوسري شريعت کي گنجايش نہيں رہتي۔ اگر وقت کي ضرورت اور سوسائٹي کے ارتقا کو نظرانداز کر کے فقہ ہي ميں اجتہاد کو مؤثر بنانا ہے تو حضرت آدم عليہ السلام کي کتاب شريعت کو ابدي قرار دے کر اجتہاد کو اس کے تسلسل کا وسيلہ کيوں نہ بنايا گيا؟
اجتہاد کي حدود کيا ہيں؟ اگر مجتہد جزوي اور فروعي مسائل ہي پر غور کر سکتا ہے تو ان بڑے بڑے مسائل کا حل کيا ہو گا جو امت مسلمہ کو پريشان کيے ہوئے ہيں؟
اگر عالم اسلام کے مجتہدين کي ايک جماعت اجتہاد کرے گي تو اس جماعت کي تشکيل کون کرے گا؟
اگرايک مجتہد انفرادي طور پر غير معصوم ہے تو مجتہدين کي ايک جماعت کيسے غير معصوم ہو جائے گي؟


جواب:

اجتہاد کا مطلب ہے کسي مسئلے ميں اللہ کا منشا معلوم کرنا۔ يہ کام ہر مسلمان کي شب و روز کي ضرورت ہے۔ يہ کسي صورت ميں بند نہيں ہو سکتا۔ وہ لوگ بھي اجتہاد کرتے ہيں جو اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کے قائل ہيں۔

ہمارے دين ميں اجتہاد کي اجازت دينے کا کوئي طريق کار نہيں بتايا گيا۔ مجتہد کے ليے شرائط کا معاملہ بھي عقل پر مبني ہے۔ ظاہر ہے کسي معاملے ميں کلام کرنے کا مجاز وہي شخص ہو سکتا ہے جو اس معاملے سے واقف ہو۔ تمام علوم وفنون ميں يہ اصول جاري ہے۔ دين کا علم بھي اس سے مستثني نہيں ہے۔ جو آدمي بھي دين ميں تفقہ کي اہليت پيدا کر ليتا ہے وہ اجتہاد کرنے کا بھي مجاز ہوتا ہے۔

دين ميں بصيرت رکھنے والا اور ديني علوم سے بہرہ مند بر آدمي ہمارے نزديک اجتہاد کا مجاز ہے۔ اگر ايک ملک ميں کئي افراد نے يہ اہليت پيدا کر لي ہے تو وہ سب اجتہاد کے مجاز ہوں گے۔ جب ايک سے زيادہ لوگ کسي ايک متن يا کلام پر غور کرتے ہيں تو مختلف اسباب کے تحت ان ميں اتفاق يا اختلاف بھي ہوتا ہے۔ علمي اختلاف تفرقے کا باعث نہيں ہے۔ تفرقہ ايک رويے کا نام ہے۔ وہ رويہ يہ ہے کہ ہم صرف اپنے مسلک ہي کو حق سمجھيں اور دوسرے مسلک کے ليے ہمارے پاس کفر و فسق کے سوا کوئي اور تعبير نہ ہو۔ ہم اپني فکر ميں غلطي کا امکان ہي نہ مانيں۔ اگر ہم فکري اور فقہي آرا ميں تنوع کے امکان کو مانيں اور ايک دائرے ميں لوگوں کو اپنے اپنے فقہي مسلک کے مطابق عمل کرنے کي آزادي ديں اور ان سب کو امت کا حصہ سمجھيں تو امت کے اتحاد ميں کوئي کمي نہيں آتي۔ باقي رہا اجتماعي زندگي کا معاملہ تو اس ميں اگر اکثريت کي رائے کے قانون بننے کا طريقہ اختيار کر ليا جائے تو وہاں بھي انتشار کي راہ روکي جا سکتي ہے۔

دين کا اصل حصہ محکمات اور مسلمات پر مبني ہے۔ ہمارے ايمان و عمل کي بنياد اصلا اسي پر ہے۔ اجتہاد کا دائرہ محکمات اور مسلمات کے باہر فہم واطلاق کا دائرہ ہے۔ يہاں وہ بات اختيار کرنا جو قرآن و سنت سے اوفق ہو باعث اجر ہو گا خواہ اجتہاد کرنے ميں غلطي ہوئي ہو۔ ہر آدمي اس عالم دين کي رہنمائي ميں عمل کرتا ہے جس کے علم و عمل پر اسے اعتماد ہوتا ہے۔ جب امت مختلف علما کي رہنمائي کو اختيار کرے گي تو اسے کسي ايک عالم دين کا پيرو بنانا غير فطري ہے۔ باقي رہا امت کا اجتماعي وجود تو وہ اکثريت کي راۓ کو اختيار کر کے متحد رہ سکتا ہے۔ بشرطيکہ اجتماعي وجود صرف انھي امور ميں مداخلت کرے جن کا تعلق رياست سے ہے۔

آپ کا بيان كردہ مفروضہ اس پر مبني ہے کہ اجتہاد سے دين نۓ دور کے ليے اپني نئي تشکيل کرتا ہے۔ چنانچہ اگر پچھلي امتوں ميں اجتہاد کي اجازت تھي تو نئي شريعت کي ضرورت ہي نہ تھي ، آدم عليہ السلام کي شريعت ہي کو اجتہاد کے ذريعے سے ہر زمانے ميں موزوں بنانے کا کام جاري رہتا۔ اجتہاد جيسا کہ ميں عرض کر چکا ہوں شريعت کے فہم واطلاق کے دائرے سے متعلق ہے۔ نئے زمانے ميں دين کے احکام اور شريعت کے بنيادي سٹرکچر ميں کوئي تبديلي نہيں ہوتي ، بلکہ نئي صورتوں ميں دين کے انھي احکام کے اطلاق کا فيصلہ کرنا ہوتا ہے۔ نئي شريعتوں کے آنے کي يہ وجہ کہ حالات کي تبديلي کے باعث نئي شريعت دي گئي ہے جزو کو کل پر چسپاں کرنا ہے۔ کچھ چيزيں ايسي ہيں جن ميں شريعت ميں تبديلي ہوئي ہے ورنہ تمام الہامي مذاہب ميں شريعت کے بنيادي احکام يکساں ہيں۔ نئي شريعتوں اور پيغمبروں کے آنے کي وجہ قرآن مجيد نے اختلافات کا فيصلہ کرنا بتائي ہے ، البتہ کلچرل تبديليوں کو پيش نظر رکھتے ہوئے بعض شرعي قوانين ميں تبديلياں بھي کي گئي ہيں۔ بنيادي طور پر دين کے عقائد وشريعت ايک ہي رہے ہيں۔ البتہ پچھلي امتوں کے ساتھ يہ حادثہ بھي ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے دين کا بہت سا حصہ گم کر ديا۔ لہذا نئي شريعتوں کے آنے کي ايک وجہ تجديد و احيا کي ضرورت بھي تھي۔ اب کسي نئے دين کي ضرورت نہيں ہے ۔ اس ليے کہ يہ دين پوري طرح محفوظ ہے۔

بڑے مسائل جن کا امت اس وقت سامنا کر رہي ہے وہ معيشت اور سياست کے نظام سے متعلق بعض سوالات ہيں۔ اسلام کي تعليمات ان دونوں موضوعات ميں واضح اور متعين ہيں۔ اسلام کا کام اتنا ہي تھا کہ وہ ان ميں جائز و ناجائز کو واضح کر ديتا اور اپنے مقصد کو واضح کر ديتا اور اس نے يہ کام بے کم وکاست کر ديا ہے۔ باقي رہا اسلام سے يہ مطالبہ کہ وہ معيشت اور سياست کا ايک نظام بنا کر ديتا تو يہ مطالبہ درست نہيں ہے۔ دنيوي زندگي کا اخلاقي اور تعبدي پہلو دين کا موضوع ہے جبکہ دنيوي زندگي کا عملي اور تدبيري پہلو انساني سمجھ بوجھ پر چھوڑ ديا گيا ہے۔ جس طرح کھانے کي ترکيبيں اور گھر بنانے کے طريقے دين کا مسئلہ نہيں ہيں اسي طرح يہ اجتماعي نظام وضع کرنا بھي دين کا مسئلہ نہيں ہيں۔ اللہ تعالي نے انسان کو اتني عقل دي ہے کہ وہ ايسے نظام تشکيل دے۔ ان سے متعلق اخلاقي پہلو دين نے اچھي طرح واضح کر ديا ہے۔ دين کا تقاضا يہ ہے کہ مسلمان يہ نظام تشکيل ديتے وقت ان پہلوؤں کو پوري طرح ملحوظ رکھے۔ باقي رہيں معاشرت اور جرم و سزا سے متعلق اسلامي احکام کي تعميل ميں مشکلات تو يہ اجتہاد کا موضوع نہيں ہيں ، بلکہ اصل ضرورت اس انحراف کو ٹھيک کرنے کي ہے جو انسان نے خود فطرت سے کيا ہے۔

کسي ملک کے اجتماعي مسائل اس کي پارليمان ہي طے کرتي ہے۔ اس کو تشکيل کرنے کا بہترين طريقہ عامۃ المسلمين کي مشاورت ہے۔ موجودہ زمانے ميں عوام کي راۓ دريافت کرنے کا طريقہ آساني سے اختيار کيا جا سکتا ہے۔ پارليمان اگر فني راۓ لينے کي ضرورت محسوس کرے تو جس طرح وہ قانون ميں وکلا سے مشورہ کرتي ہے اسي طرح علماۓ دين سے بھي مشورہ کر سکتي ہے۔

سوال معصوميت کا نہيں ہے۔ نہ ايک مجتہد معصوم ہے اور نہ مجتہدين کي جماعت۔ اجتماعي زندگي ميں اکثريت کي رائے نافذ ہوگي۔ يہ عملي حل ہے۔ ہم پہلے ہي عرض کر چکے ہيں کہ اس حل کو اجتماعي معاملات تک محدود رکھنا چاہيے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author