علم نجوم کی حقیقت

سوال:

علم نجوم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب:

یہ محض اوہام پرستی ہے، یہ کوئی سائنسی علم نہیں ہے۔ اور اس کے مقدمات بہت ماضی میں دفن ہو چکے ہیں، دنیا اب بہت آگے بڑھ گئی۔ ایک مسلمان کو اگر اچھی زندگی بسر کرنی ہے تو دو چیزوں پر اس کو اپنے علم اور عمل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ پہلی چیز ہے دین ، جو اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر کی سنت میں ہے۔اور دوسرے سائنسی حقائق پر،جو دنیا کے اندر علم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔


یہ جو علم نجوم کی طرح کے علم ہیں، ان میں انسان اوہام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماؤف ہو جاتی ہیں اور وہ اسی طرح کی چیزوں کے درپے ہوا رہتا ہے۔ اللہ نے اس کو جو عقل دی ہے، اس کو وہ استعمال ہی نہیں کرتا۔علم کی ترقی بھی اس کے نتیجے میں رکتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید نے ان علوم کو پسند نہیں کیا۔ تورات میں بھی ان علوم کی مذمت آئی ہے۔ کیونکہ اس طرح کے جتنے بھی علوم ہیںوہ انسان کو مستقبل کے بارے میں بعض ایسے توہمات میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے بعد صحیح سوچنے کا طریقہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author