علمی دنیا اور معجزوں کی حقیقت

سوال:

کیا علمی دنیا میں معراج جیسے واقعات کی حقیقت سمجھ لی گئی ہے۔


جواب:

معراج کا واقعہ ایک معجزہ ہے اور معجزہ مادی قوانین کے مطابق نہیں ہوتا۔ اس لیے انسانی ذہن کی گرفت سے باہر ہے۔ سائنس کی جتنی بھی ترقی ہوئی ہےوہ مادی قوانین کے فہم میں ہوئی ہے۔ ماوراے مادی امور مسائل نہ اس کی پہنچ میں ہیں اور نہ اس کا موضوع۔

یہ معاملہ اللہ تعالی کے امر سے وقوع پذیر ہوا تھا۔ اور اس کے ماننے کی بنیاد مخبر پر ہمارا یقین ہے۔ البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اگرچہ انسانی عقل ان مسائل کو اپنے وسائل کی مدد سے حل نہیں کر سکتی لیکن اس ان کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور کی بناوٹ میں مذہب کی قبولیت کا مادہ رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تہذیبیں مذہبی ہوتی رہیں ہیں اور اب بھی ہیں۔ وہ معاشرے جنھیں ہم ترقی یافتہ معاشرے سمجھتے ہیں وہاں حقیقی مذہب ہو یا نہ ہو توہم پرستی اور عامل ٹائپ لوگوں کا وجود انسانی شعور کی اس سرگرمی کا واضح ثبوت ہے۔

میں نے اپنے جواب میں دو نکات بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ معراج کا واقعہ ہمارے دریافت کردہ طبیعیاتی قوانین سے ماورا ہے لہذا ان قوانین سے اس کی حقیقت سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ دوسرا یہ کہ اس طرح کے واقعات کے ماننے کی بنیاد خبر دینے والے پر ہمارا اعتماد ہے۔

پھر میں نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ اعتماد اندھا بہرا نہیں ہے۔ ہم اپنے شعور سے انھیں سمجھنے اور ماننے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ خدا قادر مطلق ہے اور معراج اس کی قدرت کا ایک اظہار ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author