امام مہدی بارے میں

سوال:

امام مہدی کے بارے میں رائج عقیدہ کے متعلق آپ کی رائے سے میں متفق ہوں۔ جب میں لوگوں سے ان بارہ میں بات کرتا ہوں تو وہ دوسرے علماء کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ساری امت اس پر متفق ہے۔ وضاحت کریں۔


جواب:

امام مہدی کے متعلق احادیث اولا تو صحت کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ دوسرے یہ ایک عقیدہ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے اور عقائد اخبار آحاد سے ثابت نہیں ہوتے۔ اس مسئلہ پر غامدی صاحب نے اپنا نقطہ نظر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

اِن کے علاوہ ظہور مہدی اور مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کو بھی قیامت کی علامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہم نے اِن کا ذکر نہیں کیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ظہور مہدی کی روایتیں محدثانہ تنقید کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ اِن میں کچھ ضعیف اور کچھ موضوع ہیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ بعض روایتوں میں جو سند کے لحاظ سے قابل قبول ہیں،ایک فیاض خلیفہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے، 88؎ لیکن دقت نظر سے غور کیا جائے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اِس کا مصداق سیدنا عمر بن عبدالعزیز تھے جو خیر القرون کے آخر میں خلیفہ بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی اُن کے حق میں حرف بہ حرف پوری ہو چکی ہے۔ اِس کے لیے کسی مہدی موعود کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ (http://al-mawrid.org/pages/articles_urdu_detail.php?rid=190&cid=71)

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author