إقامت دين سے مراد

سوال:

اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ.(٤٢: ١٣) سورہ شوری کی مذکورہ ایت کے متعلق کن اہل علم اور بزرگ مفسرین کی راے محترم غامدی صاحب کی راے سے مطابقت رکھتی ہے اور ایسی ہے کہ جس سے پورے دین کا پابند رہنے، پورے دین پر قائم رہنے، پورے دین پر عمل پیرا رہنے اور پورے دین کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی اور معنی نہیں لیے جا سکتے ہوں۔

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے علاوہ کیوں کہ انکی راے دونوں ہی مکاتب فکر اپنے موقف کی دلیل میں استعمال کرتے ہیں، ویسے پھی ”دستور زندگی بنانے” میں قیام و نفاز کے معنی کا رجحان حاوی محسوس ہوتا ہے اور انکی ذندگی بھی اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی تحاریک سے وابستگی کے باعث اسی رجحان پر دلالت کرتی محسوس ہوتی ہے۔


جواب:

آپ نے اقیموا الدین کے حوالے سے پوچھا ہے۔ یہاں چند تفاسیر کے حوالے پیش خدمت ہیں امید ہے آپ کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔اضواء البیان میں ہے:

وقوله ( شَرَعَ لَكُم مِّنَ الِدِينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِي أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُواْ الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ) فإقامة الدين وعدم التفرقة فيه هو عين عبادة الله مخلصين له الدين

اس میں اقامت دین اور عدم تفرقہ سے مراد اللہ کے ساتھـ دین کو مخلص کرتے ہوئے صرف اسی کی بندگی ہے۔ (ج9، ص47)

وقد جاءت آيات في القرآن تدل على أن الوصية بالحق تشمل الشريعة كلها أصولها وفروعها ماضيها وحاضرها من ذلك ما وصى الله به الأنبياء وعموماً من نوح وإبراهيم ومن بعدهم في قوله تعالى ( شَرَعَ لَكُم مِّنَ الِدِينِ مَا وَصّي بِهِ نُوحاً وَالَّذِي أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُواْ الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ )

قرآن میں کئی آیات آئی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حق پر عمل کرنے کی نصیحت میں ساری شریعت اس کے اصول اس کی فروع اس کا ماضی اس کا حاضر سب شامل ہیں انھی آیات میں سے یہ آیت بھی ہے .......(ج9،ص94)

التسہیل لعلوم التنزیل میں ہے:

(شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا) اتفق دين سيدنا محمد e مع جميع الأنبياء في أصول الاعتقادات وذلك هو المراد هنا ولذلك فسره بقوله أن أقيموا الدين يعني إقامة الإسلام الذي هو توحيد الله وطاعته والإيمان برسله وكتبه وبالدار الآخرة وأما الأحكام الفروعية فاختلفت فيها الشرائع فليست ترادهنا (أن أقيموا) يحتمل أن تكون أن في موضع نصب بدلا من قوله ما وصى أو في موضع خفض بدلا من به أو في موضع رفع على خبر ابتداء مضمر أو تكون مفسرة لا موضع لها من الإعراب

ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اعتقادات میں بس انبیاء سے متفق ہے۔ یہی یہاں مراد ہے۔ اسی لیے اس کی تفسیر ان اقیموا الدین سے کی ہے مراد اسلام کی اقامت ہے جو اللہ کی توحید ہے، اس کی طاعت ہے اس کے رسولوں اور دار آخرت پر ایمان ہے۔ جہاں تک فروع کا تعلق ہے تو اس میں شریعتیں مختلف ہیں۔ وہ یہاں مراد نہیں ہیں۔ 'ان اقيموا' احتمال ہے کہ یہاں موضع نصب پر ہو یہ بدل ہو 'ما وصی' سے۔ موضع جر پر ہو بدل ہو 'به' سے۔ یا موضع رفع پر ہو ایک مضمر مبتدا سے۔ یا یہ مفسرہ ہو جس میں اس کا محل تعین کا سوال نہیں۔

در المنثور میں ہے:

وأخرج ابن جرير عن السدي - رضي الله عنه ( أن أقيموا الدين ) قال اعملوا به

ابن جریر نے سدی رضی اللہ عنہ سے 'ان اقيموا الدين' کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ کہا: اس پر عمل کرو۔

کشاف میں ہے:

(شَرَعَ لَكُم مّنَ الِدِينِ) دين نوح ومحمد ومن بينهما من الأنبياء ثم فسر المشروع الذي اشترك هؤلاء الأعلام من رسله فيه بقوله (أَنْ أَقِيمُواْ الدّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ) والمراد إقامة دين الإسلام الذي هو توحيد الله وطاعته والإيمان برسله وكتبه وبيوم الجزاء وسار ما يكون الرجل بإقامته مسلماً ولم يرد الشرائع التي هي مصالح الأمم على حسب أحوالها فإنها مختلفة متفاوتة

'شرع لکم من الدين' نوح اور محمد اور ان کے بیچ کے انبیا کا دین مراد ہے۔ اس دین کے لیے جس میں یہ نامور رسول مشترک ہیں یہ شریعت بیان کی کہ ' ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه' ۔ مراد دین اسلام کی اقامت ہے۔ جو اللہ کی توحید،اس کی اطاعت،اس کے رسولوں ، کتابوں اور یوم جزا پر ایمان اور وہ ساری چیزیں جن کو اپنا کر کوئی شخص مسلمان بنتا ہے اور شریعتیں مراد نہیں ہیں کہ وہ امتوں کی مصلحتیں ہیں ان کے احوال کے موافق چنانچہ یہ مختلف اور متفاوت ہیں۔

تفسیر سعود میں ہے:

والمراد بإقامته تعديل أركانه وحفظه من أن يقع فيه زيف أو المواظبة عليه والتشمر له

اس کی اقامت سے مراد اس کے ارکان کو صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے، دین کی ٹیڑھ سے محفوظ رکھنا ، اس پر مسلسل عمل اور اس کے لیے محنت ہے۔

تفسیر بیضاوی میں ہے:

( أن أقيموا الدين ) وهو الإيمان بما يجب تصديقه والطاعة في أحكام الله

ان اقيموا الدين سے مراد ہے ان چیزوں پر ایمان جن کی تصدیق واجب ہے اور اللہ کے احکام کی پیروی۔

( أن أقيموا الدين ) أي أمركم أن تقيموا جميع شرائع الدين أصوله وفروعه تقيمونه بأنفسكم وتجتهدون في إقامته على غيركم وتعاونون على البر والتقوى ولا تعاونون على الإثم والعدوان

'ان اقيموا الدين سے مراد: اللہ نے حکم دیا ہے کہ دین کے تمام ضوابط : اس کے اصول اوراس کے فروع کی اقامت کرو۔ یہ اقامت وہ اپنے نفوس پر بھی کرتے ہیں اور اپنے کے علاوہ پر بھی اس کی کوشش کرتے ہیں، یعنی وہ بر و تقوی پر تعاون کرتے اور اثم وعدوان پر تعاون نہیں کرتے۔

تفسیر سمرقندی میں ہے:

وقال أبو العالية ( أن أقيموا الدين ) قال الإخلاص لله في عبادته لا شريك له ... ويقال ( أن أقيموا الدين ) يعني وافقوا في الدين

ابو العالیہ نے کہا: ان اقيموا الدين سے مراد اللہ کی عبادت میں مخلص ہونا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ..... یہ بھی کہا گیا ہے کہ دین میں موافقت کرو۔

تفسیر سمعانی میں ہے:

وقوله ( أن أقيموا الدين ) أي اثبتوا على التوحيد وقيل أقيموا الدين أي استقيموا على الدين ويقال أقيموا الدين هو فعل الطاعات وامتثال الأوامر

ارشاد ان اقيموا الدين کا مطلب ہے توحید پر ثابت قدم ہو جاؤ۔ کہا گیا ہے کہ اقامت دین کا مطلب ہے دین پراستقامت۔ کہا جاتا ہے اقامت دین اصل میں طاعات پر عمل اور اوامر کا امتثال ہے۔

طبری میں ہے:

وعنى بقوله أن أقيموا الدين أن اعملوا به على ما شرع لكم وفرض كما قد بينا فيما مضى قبل في قوله أقيموا الصلاة وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل ذكر من قال ذلك حدثنا محمد قال ثنا أحمد قال ثنا أسباط عن السدي في قوله أن أقيموا الدين قال اعملوا به

ان اقيموا الدين سے شریعت پر عمل مراد لیا گیا جیسے کہ ہم نے اس سے پہلے 'اقيموا الصلاة' کے حوالے سے بات کی تھی۔

سدی کی رائے یہ ہے کہ دین کی اقامت کرو سے مراد ہے دین پر عمل کرو

تنویر المقیاس فی تفسیرابن عباس میں ہے:

(أن أقيموا الدين) أمر الله جملة الأنبياء أن أقيموا الدين أن اتفقوا فى الدين

ان اقيموا الدين اللہ نے تمام انبیا کو حکم دیا ہے کہ وہ دین کی اقامت کریں کہ وہ دین میں متفق رہیں

فتح القدیر میں ہے:

قال مجاهد لم يبعث الله نبيا قط إلا وصاه بإقامة الصلاة وإيتاء الزكاة والإقرار لله بالطافة فذلك دينه الذى شرع لهم

مجاہد نے کہا ہے کسی نبی کو اللہ نے مبعوث نہیں کیا الا یہ یہ کے اسے نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے اور اللہ کے اقرار کی نصیحت نہ کی ہو۔ یہ دین ہے جسے اس نے ان کے لیے مشروع کیا ہے۔

ابن عربی کی احکام القرآن میں ہے:

(أن أقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه) أي اجعلوه قائما يريد دائماً مستمراً محفوظاً مستقرّاً من غير خلاف فيه ولا اضطراب عليه

'ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه' یعنی اسے قائم کرو۔ مراد یہ ہے کہ اسے دائم، جاری، محفوظ، برقرار رکھو کہ نہ اختلاف ہو نہ اضطراب۔

تفسیر العز بن عبدا السلام میں ہے:

( أقيموا الدين ) اعملوا به أو ادعوا إليه

' اقيموا الدين' اس پر عمل کرو یا اس کی طرف بلاؤ

امید ہے یہ اقتباسات اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارے مفسرین اس آیت کو کیسے دیکھتے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author