اقدامی اور دفاعی جہاد

سوال:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں جو جنگیں لڑی گئی ہیں وہ صرف کفر و شرک کو بنیاد کر قانون جزا و سزا کے حوالہ سے لڑی گئی تھیں یہ اقدامی اور دفاعی جہاد کے حوالہ سے بھیکی گئی تھیں۔ اس حوالہ سے دونوں اقسام کے غزوات کے نام بھی بتا دیں۔


جواب:

جہاد کے حوالے سے جو اصطلاحات آپ نے بیان کی ہیں یعنی اقدامی اور دفاعی جہاد، قرآن مجید جہاد کو اس طرح بیان نہیں کرتا نہ یہ اس کی بیان کردہ اصطلاحات ہیں۔ہمارے نزدیک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جہادوقتال برپا ہوا قرآن مجید میں اس کی دونوعیتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک ’’ظلم وعدوان‘‘ کے خلاف جہاد اور دوسرا ’’اتمام حجت‘‘ کے بعد منکرین حق کے خلاف جہاد۔

پہلی صورت یعنی ’’ظلم وعدوان‘‘ کے خلاف جہاد شریعت کا ایک ابدی حکم ہے۔ جبکہ ’’اتمام حجت‘‘ کے بعد منکرین حق کے خلاف جہاد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص تھا۔ البتہ یہ واضح رہے کہ یہ دونوں جہاد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی گروہ کے خلاف کیے گئے۔ یعنی جو لوگ منکرین حق تھے انہوں نے ہی مسلمانوں پر بدترین ظلم وستم ڈھائے تھے۔ معلوم بات ہے قریش مکہ نے مسلمانوں کو ان کے گھرسے نکالا، انہیں ناحق قتل کیا، ان کے مال وجائیداد پر قبضہ کیا۔ لہذا ہجرت مدینہ کے ساتھ جب ان پر اتمام حجت ہوگیا تو ان لوگوں کے خلاف جہاد شروع کردیا گیا۔ یہی معاملہ یہود مدینہ کا تھاجنہوں نے ہجرت کے بعد صلح کا ایک معاہدہ کرنے کے باوجودبھی مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردی اور قریش مکہ کو مدینے پر حملے کے لیے مدد فراہم کی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ وہ لوگ بھی تھے جن پر اتمام حجت کردیا گیاتھا، لیکن یہ پھر بھی نہیں مانے۔ چنانچہ ان کی دغاوفریب کے علاوہ ان کا کفر بھی ان کے خلاف اقدام کا سبب بن گیا۔

البتہ ’’سورہ توبہ‘‘ میں تمام عرب کے باسیوں کے لیے جو عام اعلان جنگ کیا گیا تھااس کا تعلق قانون اتمام حجت سے تھا۔ اس معاملے میں ان کی طرف سے کسی ظلم کے ارتکاب کو بنیاد نہیں بنایاگیاتھا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author