عراق اور کشمیر کی جنگ

سوال:

عراق میں جو جنگ ہو رہی ہے، کیا وہ جہاد ہے؟وہاں جو لوگ امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں، کیا وہ موت کے مستحق ہو گئے ہیں؟ اسی طرح کشمیر میں جو جہاد ہو رہا ہے، کیا واقعی وہ جہاد ہے؟


جواب:

اس سے پہلے کہ ہم عراق یا کشمیر کے بارے میں کوئی راے قائم کریں، ہمیں جہاد کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید سے جہاد کا مقصد اور جہاد کے شرائط متعین صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دین کا منشا اور شریعت کے احکام واضح کردیں، ان کے اطلاق میںاگر اختلاف ہو تو اسے کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔

ایک صورت تو یہ ہے کہ کوئی دوسرا آپ کے اوپر حملہ کردے۔ یہ صورت دفاعی جہاد کی ہے۔ اس کے بارے میں کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دین کی اخلاقیات پیش نظر رکھیں تب بھی اور دنیا کے اجتماعی ضمیر کو سامنے رکھیں تب بھی ایک جائز جنگ ہے اور اس خرابی کی ساری ذمہ داری حملہ آور پر عائد ہوتی ہے۔ اس میں صرف ایک پیچیدگی ہے کہ دفاع کا عمل کب تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔ ہمارا نقطۂ نظر اس میں یہ ہے کہ دین کی لگائی ہوئی شرط کے مطابق یہ جہاد اس وقت تک جاری رکھا جائے گا ، جب تک جہادی کارروائی کسی منظم ریاست کے تحت ہے۔ جونہی ریاست کا نظام درہم برہم ہوجائے ، جہادی کارروائی اس وقت تک روک دینی چاہیے، جب تک کسی علاقے میں دوبارہ نظم ریاست بحال نہ کر لیا جائے۔

اقدام کے جہاد کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا یہ اقدام محض کسی ظلم کے استیصال کے لیے ہو۔ مراد یہ ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی قوم ظلم کا نظام قائم کیے ہوئے ہے ، یعنی وہ لوگوں کو ان کی آزادی راے وعمل کے مطابق جینے کا حق نہیں دیتی تو ایسی قوم کے خلاف جہاد کا اقدام جائز ہو جاتا ہے۔ یہ جہاد بھی صرف ریاست ہی کر سکتی ہے ، انفرادی حیثیت میں کسی جہاد کی اجازت نہیں ہے۔

اگلا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جہاد کتنی طاقت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد کے حوالے سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ پہلے مقابلہ ایک اور دس کی نسبت سے کیا جا رہا تھا ، اس وقت آپ کے ساتھیوں کی ایمانی کیفیت اور تھی۔ اب معاملہ وہ نہیں ، لہٰذا اب آپ جہادی اقدام ایک اور دو کی نسبت کو ملحوظ رکھ کر کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی حیثیت کو ہم سب جانتے ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید حاصل تھی ، اگر انھیں اس بات کا اہتمام رکھنے کو کہا جا رہا ہے تو ہمارے لیے یہ بات بدرجہ اتم قابل لحاظ ہے۔

مزید براں جہادی کارروائی کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف محارب افراد کے ساتھ کی جائے۔ محارب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلح ہو کر جنگ کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں۔ ان کے علاوہ جو لوگ بھی مارے جائیں گے ،وہ ناحق قتل ہیں اور ایسے لوگ قیامت کے دن جواب دہ ہوں گے۔

امید ہے، میرے اس جواب کی روشنی میں آپ بآسانی یہ طے کر سکیں گے کہ صحیح جہاد کیا ہے اور کون لوگ شریعت کے قواعد کے مطابق یہ کام کر رہے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author