اسلام کی دعوت کا طریقہ کار

سوال:

اسلام کی تبلیغ کے لیے خدا کا وجود اور اس پر بحث زیادہ اہم ہے یا خدا کے نظام کا وجود اور اس پر بحث؟ خدا کے وجود کو تو باقی مذاہب بھی ثابت کرتے ہیں، لیکن ہمارے مذہب کی بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا کے نظام کے وجود کو پہلے اسلام نے ثابت کیا تھا، اس کے بعد لوگ اسلام میں جوق در جوق داخل ہونا شروع ہوئے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب:

اس میں کئی مغالطے پوشیدہ ہیں اور ان کے بارے میں ہمیں ایک دوسرے کو بتانا چاہیے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ پہلی چیز یہ کہ اسلام انبیا علیہم السلام کا دین ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلام کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہے۔ تمام انبیا یہی دین لے کر آئے ہیں۔ یہ بات قرآن مجید نے بڑی وضاحت سے بیان کر دی ہے ۔

 'شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّی به نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَينَا إِلَيْکَ وَمَا وَصَّيْْنَا بِهِ إِبْرَاهيْمَ وَمُوسَی وَعِيْسَی أَنْ أَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ' (الشوری٤٢:١٣) 

 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اے پیغمبر، ہم نے وہی دین آپ کودیا ہے جو ہم نے اس سے پہلے حضرت نوح، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور سیدنا ابراہیم علیہم السلام کو دیا تھااور وہ دین اور ایمان و اخلاق کی دعوت تھی۔ قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی نظام کی دعوت نہیں دیتا۔ وہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ لوگو! متنبہ ہو جاؤ، ایک دن تمھیں خدا کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے۔ یہ جواب دہی کی دعوت ہے جو دی گئی تھی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے بارے میں خدا کے پیغمبروں نے انسان کو متنبہ کیا کہ موت تمھارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ تمھیں ایک دن اپنے پروردگار کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے، اس جواب دہی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بناؤ۔ یہ اسلام کا اصل موضوع ہے۔اسلام نے کوئی نظام نہیں دیا، اسلام نے شریعت دی ہے۔ یعنی ایک قانون دیا ہے اور قانون میں وہ چندہدایات دی ہیں جن میں انسان کی اپنی عقل کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ نظام تو ہم بناتے ہیں۔ یہ اسلام کی دعوت کو پیش کرنے کا بڑا ناقص طریقہ ہے۔ اسے اس کی اصل بنیاد پر پیش کرنا چاہیے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author