اسلام کیا ہے؟

سوال:

اسلام کیا ہے؟


جواب:

اسلام اللہ کا بھیجا ہوادین ہے۔ اس کوبنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک کا تعلق ایمان و اخلاق سے ہے اور دوسرے کا قانون سے۔ ایمان میں کچھ حقائق ہیں، جن کو ہمیں ماننا ہے اور اپنی اخلاقی تطہیر کرنی ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے۔ انبیا علیہم السلام اصلاً اسی مقصد کے لیے آئے ہیں۔ یعنی انسان کو ان حقائق کے بارے میں علم دیا جائے جن کو وہ خود دریافت نہیں کر سکتا تھا۔ اسے بتایا جائے کہ اس کا ایک پروردگار ہے، اسے اس کے سامنے ایک دن جواب دہ ہونا ہے، اس پروردگار کی رضا جوئی کے لیے اسے زندگی بسر کرنی ہے۔ یہ بنیادی حقیقت ہی اصل دین ہے۔

دین دنیا کے اندر انسان کے تزکیے کی دعوت ہے۔ تزکیہ قرآن مجید کی اصطلاح ہے۔ اسی کو قرآن مجید دین کا مقصد کہتا ہے۔ اس کا مطلب اپنے آپ کو اخلاقی لحاظ سے پاک کرنا، اپنے بدن کی تطہیر کرنا، اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو پاکیزہ رکھنا ہے۔ یہ تزکیہ انسان کی انفرادی زندگی سے بھی متعلق ہے، اور اجتماعی زندگی سے بھی۔

اس کے بعد قانون ہے۔ قانون سے مراد وہ احکام ہیں جن کی پابندی آپ کو کرنا ہوتی ہے اور یہ احکام چیزوں کو ایک قاعدے ضابطے میں باندھ دیتے ہیں۔ اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ شریعت کا لفظ قانون ہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تورات کو اسی وجہ سے تورات کہا جاتا ہے کہ اس میں صرف قانون ہے۔ تورات کا لفظ قدیم عبرانی زبان میں قانون ہی کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ قرآن مجید اس مقصد کے لیے لفظ 'کتاب' بھی استعمال کرتا ہے اور 'شریعت' بھی۔ قانون کا تعلق زندگی کے بہت سے معاملات سے ہے۔ قرآن نے سیاست، معیشت، جہاد سے متعلق بھی قانون دیا ہے اور دعوت و تبلیغ سے متعلق بھی۔

اس میں جو ایمانیات ہیں، وہ پانچ ہیں۔ اللہ پر ایمان، اللہ کے فرشتوں پر ایمان، اللہ کی کتابوں پر ایمان، اللہ کے نبیوں پر ایمان اور قیامت کے دن پر ایمان۔ یہ چیزیں مسلمان کو مسلمان کی حیثیت سے لازماً ماننا ہوتی ہیں اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان میں سے ایک چیز کا بھی اگر آپ انکار کرتے ہیں تو آپ ایک بڑی حقیقت کا انکار کر دیتے ہیں۔ اللہ اس کائنات کا پروردگار ہے، اس کے فرشتے ہیں جن کے ذریعے سے وہ انسانوں کے ساتھ رابطہ پیدا کرتا ہے۔ انسانوں میں سے وہ پیغمبروں کا انتخاب کرتا ہے۔ پیغمبروں کو قول فیصل کی حیثیت سے وہ اپنی کتابیں دیتا ہے اور کتابیں جس چیز کے بارے میں خبردار کرتی ہیں، وہ قیامت کا دن ہے۔ انسان کو ایک دن مرنا ہے اور موت کے بعد ایک عظیم دن واقع ہونے والا ہے، اور اس دن انسان کو اپنے پروردگار کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔ یہ پوری کی پوری ایک ہی بات ہے جس کو انسان مانتا ہے۔ جب انسان اس کو مانتا ہے تو پھر وہ ایمان کے ساتھ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author