اسلام میں عورتوں او رمردوں کے درمیان تفریق

سوال:

کیا دین نے عورتوں اور مردوں کے احکام میں فرق کیا ہے؟ بعض معاشروں میں عورتوں کے ساتھ تفریق کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، مثلاً سعودی عرب میں عورتیں گاڑی نہیں چلا سکتیں۔ ہمارے ہاں کچھ گھرانوں میں اور برادریوں میں عورتوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا، باوجود اس کے کہ شریعت نے اسے مقرر بھی کر دیا ہے۔


جواب:

اگر ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں وہاں ایسی کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔ اس طرح کی کوئی چیز نہ توارت میں ہے، نہ زبور و انجیل میں اور نہ ہی قرآن میں۔ دور نبوی میں توخواتین جنگوں میں شریک ہوئی ہیں۔ انھوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیے ہیں، وہ قافلو ں کے ساتھ گئیں، تجارت کی، سرپر لکڑیوں کا گٹھا لاتی تھیں۔ یہی معاملہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے دور کا ہے۔ آپ انجیل کو پڑھیے، اس میں بڑی تفصیل کے ساتھ معلوم ہو گا کہ کس طرح خواتین ان سے گفتگو کر تی تھیں، ان کی مجالس میں شریک ہو رہی ہیں۔

دراصل اس بات کا بڑا تعلق اس کلچر سے ہوتا ہے جس میں اسلام پہنچتا ہے۔ وہ افغانستان میں پہنچے گاتو وہاں لوگ اپنے کلچر میں اس کی تعبیر کر لیں گے۔ وہ عرب میں ہو گا تو وہاں لوگ اپنے کلچر میں اس کی تعبیر کر لیں گے۔ ہمارے ہاں بھی بعض قوموں کے ایسے ثقافتی پس منظر رہے ہیں، جن سے یہ سب چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔ انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جب دین کے احکام پر بھی غور کرتے ہیںتو بسا اوقات اپنے ثقافتی پس منظر اور اپنے کلچر سے اوپر اٹھ کر غور نہیں کرتے۔
اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں جو شریعت دی ہے، اس کی بنیاد پر ہمارے ہاں قانون سازی کی جاتی ہے، اس قانون کو فقہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ یہ قانون سازی مذہبی پس منظر میں ہوئی ہے، اس لیے یہ انفرادی زندگی پر بھی اثر انداز ہو جاتی ہے اور اس قانون سازی پر چونکہ تہذیب، کلچر اور رسوم و رواج بھی اثر انداز ہوتے ہیں، اس وجہ سے بعض اوقات ایک بنیادی بات جو اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہوتی ہے، جب وہ قانون سازی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے تو وہ یک سر ایک مختلف شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پھر بعض اوقات زمانے کی کچھ مصلحتیں بھی ہوتی ہیں،وہ بھی اس قانون سازی پر اثر انداز ہوجاتی ہےں۔ اس سارے عمل سے جو ڈھانچا بنتا ہے، اس میں اس طرح کی چیزیں بہت غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔

اس معاملے کو جب ہم قرآن مجید کی روشنی میںدیکھتے ہیں تو چند بنیادی مقدمات بالکل واضح طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید یہ اعلان کرتا ہے کہ مرد و عورت کے مابین انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں آدم و حوا کی اولاد ہیں اور دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جب دنیا میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں تو اس معاملے میں رشتے اور تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ اصل میں یہ تعلقات ہیں جن میں بعض اوقات حفظ ِمراتب کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم خاندان کا ادارہ وجود میں لاتے ہیں تو ماں اور باپ کے رشتے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اب ماں اور باپ میں خِلقت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے، لیکن اس سے ایک مرد کو والد اور ایک خاتون کو ماں کی جو حیثیت حاصل ہو گئی ہے،اس میں بھی حفظِ مراتب کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اس طرح ان رشتوں میں کوئی چھوٹا ہو جاتا ہے اور کوئی بڑا، لیکن خلقت کے اعتبار سے یہ سب برابر ہی ہیں۔ اسی طرح جب آپ ریاست کا نظم بناتے ہیں، کوئی ادارہ قائم کرتے ہیں، اس میںکچھ لوگوں کو ذمہ داریاں دیتے ہیں توان کے لحاظ سے مراتب کا فرق پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں بعض اوقات آپ کو ایسے قاعدے قوانین بھی بنانے پڑتے ہیں، جو اس فرق کا لحاظ کر کے بنائے گئے ہوں۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جس شخص کو ہم نے سربراہ مملکت بنا دیا ہے، وہ خلقت کے لحاظ سے کوئی بڑی چیز بن گیا ہے یا کوئی مختلف چیز بن گیا ہے۔ یہ مراتب کا فرق ہے جس کو بعض لوگ اس دائرے میں نہیں رکھتے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس کو رکھا ہے۔ وہ اسے بہت آگے بڑھا کر وہ صورتیں پیدا کر دیتے ہیں جن کی طر ف سوال میں اشارہ کیا گیا ہے۔
قرآن مجید میں یہ بات کہیں بھی موجود نہیں کہ عورت گاڑی نہیں چلا سکتی یا اس کو اگر باہر شاپنگ کے لیے جانا ہے تو اسے کسی کو ساتھ لے جانے والے کا اہتمام کرنا ہو گا۔ اصل میں یہ مسئلہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہا کہ اگر دو تین دن کے سفر پر کوئی خاتون نکلتی ہے تو اپنے کسی محرم عزیز کو ساتھ لے لے تاکہ اس پر کوئی تہمت نہ لگ جائے، کوئی فتنہ نہ پیدا ہو جائے۔ اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے یہ بڑی عمدہ ہدایت ہے۔ آپ اس زمانے کے سفر کا اندازہ کیجیے۔ اونٹ گھوڑے پر سفر کرنا، قافلوں میں جانا، سراؤں اور پڑاؤ میں رہنا۔ اس سارے پس منظر میں اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کو دیکھیں تو اس کی معنویت بالکل ٹھیک واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن آج کے دور میں معاملہ بہت مختلف ہو گیا ہے۔ مواصلات کے ذرائع میں بہت ترقی ہو چکی ہے۔ آپ چند منٹ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بڑے اطمینان کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی دس کلو میٹر کا سفر پہلے جو مسائل پیدا کرتا تھا وہ اب ہزاروں میل کا سفر بھی پیدا نہیں کرتا۔ اتنی بڑی تبدیلی آ گئی۔ اس تبدیلی کو ملحوظ نہ رکھنے سے اس طرح کے مسائل پیدا ہو ں گے۔ اس طرح سے ایک کے بعد دوسرا مسئلہ آپ نکالتے چلے جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر دین کو ایک ایسی چیز بنا دیتے ہیںکہ جس سے بعض اوقات اہل ِعقل محسوس کرتے ہیں کہ صورت حال مضحکہ خیز سی ہو گئی ہے۔ دین اور فقہ کے احکام،دونوں کو الگ الگ سمجھنا چاہےے، اللہ اور اللہ کے پیغمبر کے احکام اور چیز ہیں، جب کہ ان کی بنیاد پر بننے والی فقہ ایک بالکل اور چیز ہے۔ فقہ ایک انسانی چیز ہے اور اس پر ہر دور میں نظر ثانی ہوتی رہنی چاہیے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author