اسلام میں داڑھی کی حیثیت

سوال:

اسلام میں داڑھی کا کیا مقام ہے ؟ کب ا س کا حکم ہوا؟ آپ کے حلقے کے بعض نمائندہ افراد کے مقررہ شرعی داڑھی نہ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟


جواب:

داڑھی زمانۂ قدیم سے مردانہ چہرے کا ایک جز رہی ہے ۔اسی حیثیت میں رسول اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیا کرام داڑھی رکھتے تھے۔ بعض لوگوں نے اسی بات کو دیکھ کر اسے سنت قرار دے دیا۔ ہمارے نزدیک دین میں کوئی سنت اس طرح وجود میں نہیں آ سکتی کیونکہ سنت صرف وہی چیز ہو سکتی ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے دینی چیز ہو ، دین کے بنیادی مقصد یعنی تزکیہ سے براہ راست متعلق ہواورا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور ایک سنت کے جاری فرمائیں۔ داڑھی کو اس طرح بطور سنت جاری کرنے کے کوئی شواہد ہمارے سامنے نہیں آتے۔ اس حوالے سے احادیث میں جو کچھ آیا ہے وہ اسے یا تو فطرت کا ایک حصہ قرار دینے کے حوالے سے ہے یا پھر اہل کتاب و مشرکین کی ایک خاص وضع کے حوالے سے ہے کہ وہ داڑھی چھوٹی کرتے اور مونچھیں بڑ ھاتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مخالفت میں داڑھی بڑ ھانے کا حکم دیا۔ ظاہر ہے دین میں اگرکوئی سنت جاری کرنا مقصود ہو تو اسے اس طرح بیان نہیں کیا جاتا۔ ہمارے نزدیک اس کی دینی حیثیت یہی ہے کہ کوئی اگر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں رکھتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں اپنی محبت کا اجر پائے گا، البتہ یہ کوئی شرعی چیز نہیں ہے اور جب یہ خود کوئی شرعی چیز نہیں تو پھر شریعت میں اس کی کوئی مقدار کیسے مقرر کی جا سکتی ہے؟

باقی رہا جاوید صاحب کی داڑھی کا سوال تو ان کی داڑھی بالکل ہے۔ مگر ذرا چھوٹی ہے اور بال بھی سفید اور نسبتاً چھدرے ہیں۔ مزید براں ان کا رنگ بھی خاصا صاف ہے ، اس لیے ان کی داڑھی نمایاں طور پر نظر نہیں آتی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author