اسلام میں فلم

سوال:

میں آپ سے دو سوالوں کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ فلم کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جو انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کا انجام اسی کے ساتھ ہو گا۔ اور مجھے مغربی تہذیب خصوصاً یورپین سے بہت محبت ہے جو کہ ان کے پر امن ماحول اور انصاف سے بھر پور معاشرے کی وجہ سے ہے۔ تو کیا میرا حشر ان کے ساتھ ہو گا جو کہ منکر رسولؐ ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ فلم کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔ پھر آپ نے حدیث کے بارے میں بھی سوال کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا انجام ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنھیں وہ پسند کرتا ہے۔ آپ نے بیان کیا ہے کہ آپ کو اہل یورپ سے محبت ہے تو کیا آپ بھی روزقیامت منکرین رسول کے ساتھ شامل کیے جائیں گے۔

فلم کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر وہی ہے جو تمام فنون لطیفہ کے بارے میں ہے۔ فنون لطیفہ اصلا مباحات کے دائرے کی چیز ہیں۔ مباح سے مراد یہ ہے کہ وہ امرہے جس کے کرنے پر دین میں گناہ وثواب کی کوئی بات موجود نہیں ہے۔لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مباحات پر دین واخلاق کی شرط لگی ہوئی ہے۔ یعنی مباح کام کرتے ہوئے اس کی کوئی ایسی شکل اختیار نہیں کی جا سکتی جس سے دین کے کسی حکم یا منشا کی خلاف ورزی ہوتی ہو یا اخلاق کے کسی مسلمہ کی مخالفت ہوتی ہو۔ فلم کے بنائے جانے میں بالعموم دین واخلاق کی شرائط کا خیال نہیں رکھا جاتا چنانچہ موجود فلموں کی اکثریت کے بارے میں مثبت رائے دینا مشکل ہے۔ البتہ بعض فلمیں ضرور ایسی ہیں جن کو اس شرط کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک اور بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے۔ انسان جہاں دین کی حدود کا پابند ہے ، اپنے اخلاقی وجود کی حفاظت کا ذمہ دار ہے وہیں اپنے معاشرے کے افراد کے ذہنی اور نفسیاتی رجحانات کے بناو اور بگاڑ کا بھی ذمہ دار ہے۔ فلم میکنگ میں اس کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں جیسے رزق حلال کھانے کا حکم دیا گیا ہے وہاں ہمیں یہ عقل بھی دی گئی ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھیں۔

وہ روایت جس کا حوالہ آپ نے دیا ہے ایک صحیح خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آدمی جن سے متاثر ہوتا ہے جن کے ساتھ شب روز گزارتا ہے جن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جنھیں پسند کرتا ہے آہستہ آہستہ انھی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس کا خطرہ رہتا ہے کہ وہ بالآخر اپنے دین وایمان اور اپنی اقدار ہی سے ہاتھ دو بیٹھے۔ روایت اسی نتیجے سے خبردار کر رہی ہے۔ یورپ میں بے شک بعض چیزیں بہت اچھی ہیں لیکن ان کا فلسفہ ان کی اقدار اور ان کی معاشرت اپنے اثرات سے مسلمانوں کی بڑی اکثریت کو معنوی اور عملی ارتداد کا شکار بناتی چلی جارہی ہے۔ چنانچہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس طرح کے بہت سے لوگ قیامت کے دن مسلمانوں کی صف میں نہ کھڑے کیے جائیں۔آپ اگر اقبال کی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل تو بے شک اندیشہ نہ کریں لیکن اگر یہ صورت حال نہیں ہے تو اپنے دین وایمان کی فکر کریں۔ مغرب کا چہرہ ضرور روشن ہے لیکن اندروں چنگیز سے بھی تاریک تر ہے اور یہ بات ہم حالیہ جنگوں میں مشاہدہ بھی کر چکے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author