اسلام میں علم نجوم ، دست شناسی اور علم الاعداد کی حیثیت

سوال:

اسلام میں علم نجوم،دست شناسی اور علم الاعداد کی کیا حیثیت ہے؟کیا خطرات سے بچنے کے لیے ان علوم کو استعمال کیا جا سکتا ہے؟


جواب:

ابھی تک ان علوم کا سائنس ہونا پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچا اور دین میں ان کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ یہ محض اندازے اور خیال آرائی کے علوم ہیں۔ ان کے اندر یا تو کوئی اصول اور قانون نہیں پایا جاتا یا پھر انسان ابھی تک انھیں دریافت نہیں کر سکا۔ چنانچہ ان سے آدمی کو بچنا چاہیے، کیونکہ یہ اسے شدید قسم کے وہموں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انھیں اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرنے میں کیا حرج ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ علوم اگر سائنس ثابت ہو جاتے تو پھر ان سے لازماً یہی کام لیا جاتا، جیسا کہ سائنسی چیزوں،مثلاً بلٹ پروف جیکٹس وغیرہ سے لیا جاتا ہے، لیکن اب جبکہ یہ سائنس نہیں ہیں، کیونکہ ان میں 'Logic' اور 'reasoning' کا کوئی معیار نہیں ہے تو ان سے وہ کام کیسے لیا جا سکتا ہے جو سائنسی علوم سے لیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ علوم انسان کو بس وہم ہی میں مبتلا کرتے ہیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author