اسلام میں لونڈی و غلام کی حیثیت

سوال:

اسلام میں ایک آدمی کو کتنی لونڈیاں رکھنے کی اجازت ہے؟ کیا وہ ان کے اخراجات کا بھی ذمہ دار ہو گا اور کیا وہ ان سے جنسی تعلق بھی رکھ سکتا ہے؟ اسی طرح ایک عورت کتنے غلام رکھ سکتی ہے اور کیا وہ بھی ان سے جنسی تعلق رکھ سکتی ہے؟


جواب:

لونڈی اور غلام اسلام کی پیداوار نہیں ہیں۔ اسلام نے انسان کو غلامی ختم کرنے کی طرف دھکیلا ہے۔ قرآن مجید میں لونڈی اور غلاموں کا معاملہ اس حیثیت سے زیر بحث آیا ہے کہ یہ معاشرے میں موجود ہیں ، انھیں ایک دم سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ جب تک یہ معاشرے میں موجود ہیں، اس وقت تک کے لیے اسلام نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ لونڈیوں اور غلاموں کے آقا ان سے اپنا کام کاج کرا سکتے ہیں۔ چنانچہ ان کی لازمی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنا ان کے آقاؤں کی ذمہ داری قرار دی ہے۔


کوئی آدمی کتنے غلام اور کتنی لونڈیاں رکھے، اس کا فیصلہ ہمیشہ سے انسان نے خود ہی کیا تھا، اسلام نے اس میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ اس نے بس ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ، انھیں آزاد کرنا ایک بڑی نیکی قرار دیا اور اس حوالے سے کچھ مزیداقدامات بھی کیے۔


لونڈی کے ساتھ جنسی تعلق اس کا مالک رکھا ہی کرتا تھا، اسلام نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ البتہ، اس تعلق کے حوالے سے لونڈی کو اس کے مالک تک محدود کر دیا ہے۔


کوئی عورت بھی جتنے چاہے غلام رکھ سکتی ہے، لیکن وہ ان کے ساتھ کوئی جنسی تعلق نہیں رکھ سکتی ۔ یہ اسلام میں ممنوع ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author