اسلام میں عورت اور مرد کا فرق

سوال:

اسلام مساوات کا مذہب ہے۔ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ عورت کو مرد سے آدھی وراثت ملتی ہے اور شوہر کو بیوی کو مارنے کا حق دیا گیا ہے۔ کئی غیر مسلم قرآن کے اس حکم کا حوالہ دیتے ہیں۔ازراہ کرم ان تصورات کی وضاحت کردیجیے ۔


جواب:

اسلام کی تعلیمات کو سامنے رکھیں تو مساوات کے بجاے عدل کا لفظ زیادہ صحیح ہے۔ مساوات سے بھی وہی مساوات مراد ہے جو عدل کے مقصد سے مطابقت رکھتی ہے۔ آپ نے قرآن مجید کی جن دوتعلیمات پر اشکال ظاہر کیا ہے، ان کا تعلق اسلام کے پیش نظر خاندانی نظام سے ہے۔
جس طرح کسی بھی نظام میں مناصب اہلیت کی بنا پر دیے جاتے ہیں،اسی طرح خاندان میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کی شخصیت میں کچھ فرق رکھا ہے ۔ دوسرے اسلام میں کفالت کا ذمہ دار مرد کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ان دو سبب کے تحت مرد کو گھر کا سربراہ قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح ہر نظام میں سربراہ کو تادیب کے اختیار حاصل ہوتے ہیں، اسی طرح گھر کے اس سربراہ کو تادیب کا اختیار حاصل ہے۔قرآن مجید میں یہ ساری بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ. (نساء4: 34)
''مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مال خرچ کیے۔''

شوہر کو بیوی کا باس(Boss) قرار دینے کی وجہ بیان کرنے کے بعد قرآن مجید نے اچھی بیوی کی دو صفات بیان کی ہیں: ایک یہ کہ وہ فرماں بردار ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ گھر کے بھیدوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اس کے بعد اگر بیوی شوہر کی اس حیثیت کو ماننے سے انکار کردے تو قرآن مجید نے اصلاح کے لیے نصیحت، بستر سے علیحدگی اور بدرجہ آخر مارنے کا طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اگر اللہ کے دین میں دیا گیا خاندانی نظام پیش نظر ہو تو اس میں یہ ساری باتیں معقول ہیں۔ البتہ اگر خاندانی نظام کے بجاے معاشرے کو کسی دوسرے طریقے پر استوار کرنا پیش نظر ہے تو پھر نہ ان ہدایات کی ضرورت ہے اور نہ کسی خصوصی اختیار اور حیثیت کی۔

قانون وراثت کے ضمن میں عرض ہے کہ اس کی اساس خود اللہ تعالیٰ نے بیان کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وراثت کے یہ احکام اس لیے دیے گئے ہیں کہ تم خود سے بالعموم ٹھیک ٹھیک متعین نہیں کر سکتے کہ مرنے والے سے منفعت میں سب سے زیادہ کون قریب ہے، اس لیے ہم نے خود سے حصے مقرر کر دیے ہیں۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ مرد کو کفیل ٹھہرایا گیا ہے۔ چنانچہ اولاد کے مردوں پر آیندہ کفالت کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذاانھیں زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ اسی قانون میںماں باپ کا حصہ برابر ہے، حالاںکہ ان میں بھی ایک مرد اور ایک عورت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اس پر معاش کی ذمہ داری کی وہ صورت نہیں ہے۔

ہر قانون اور ضابطہ کچھ مصالح اور مقاصد کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ قانون پر تنقید کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس مصلحت اور مقصد کو سمجھا جائے۔ دو صورتیں ہوں گی: ہمیں اس مقصد اور مصلحت ہی سے اتفاق نہ ہو ، پھر بحث اس موضوع پر ہو گی۔ دوسری یہ کہ اس مصلحت اور مقصد کو یہ قانون پورا نہ کرتا ہو۔ اس صورت میں گفتگو اس دوسرے پہلو سے ہو گی۔ قرآن مجید کا معاملہ یہ ہے کہ یہ علیم و خبیر خدا وند عالم کی کتاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی کوئی بات انسانی فطرت اورعقل و فہم کے موافق نہ ہو۔ ہم اپنی کوتاہی دور کر لیں، ہر چیز واضح ہو جاتی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author