اسلام میں موسیقی

سوال:

کیا اسلام میں موسیقی حرام ہے ؟


جواب:

اسلام میں موسیقی حرام نہیں ہے، البتہ اگر موسیقی کے ساتھ کچھ حرام چیزیں (فواحش) شامل ہو جائیں تو پھر وہ حرام ہو گی۔ اسی طرح اگر موسیقی کی دھن ہی ایسی ہے کہ وہ انسان کے اندر سفلی جذبات پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے تو ایسی موسیقی بھی اپنی دھن کی شناعت کے درجے کے مطابق مکروہ یا حرام ہو گی۔

اگر معاملہ یہ ہے کہ نہ موسیقی کی دھن وغیرہ میں کوئی خرابی ہے اور نہ اس کے ساتھ کسی حرام چیز ہی کی آمیزش ہے تو پھر اس صورت میں موسیقی جائز ہو گی، لیکن اس جائز موسیقی کا بھی ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ اس میں زیادہ اشتغال انسان کے تزکیے کے عمل کو خراب کرتا اور اسے خدا سے غافل کرتا ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ موسیقی میں اشتغال کو اشتغال بالادنیٰ (کم تر درجے کی چیز میں مشغول ہونا) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

چنانچہ موسیقی جائز تو ہے، لیکن اس درج بالا ساری بات کے مطابق ہی موسیقی کے جواز کا مفہوم طے کرنا چاہیے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author