اسلام میں پابندیاں

سوال:

میری بیٹی کیوبا میں پڑ ھتی ہے اس کے پروفیسر نے اس سے یہ سوال کیا ، بلکہ اسلام پر تنقید کی کہ آپ کے مذہب میں پابندیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ کا مذہب منع کرتا ہے کہ آپ آزادی سے گھومیں پھریں ، کلب جائیں ، ڈانس کریں ، لڑ کے لڑکیوں کی دوستی منع ہے ، آپ اپنی مرضی کے کپڑ ے نہیں پہن سکتے ، گرمی ہویا سردی آ پ پر شلوار قمیض پہننا لازم ہے۔ جبکہ ہم تو اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں ، جہاں دل چاہے جاتے ہیں ، جو دل کرتا ہے کرتے ہیں۔ ہمارا مذہب ہمیں کسی چیز سے منع نہیں کرتا اور نہ کسی چیز سے روکتا ہے۔ میری بیٹی نے مجھ سے اس کا جواب مانگاہے۔ میں اس کا جواب دے سکتی ہوں لیکن وہ جذباتی ہو گا۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کا ایسا جواب دیں جو اس پروفیسر کو مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل پر اسلام کے حوالے سے اچھا تأثر بھی قائم کرے؟ٍ


جواب:

آپ کی صاحبزادی کے پروفیسر نے اسلام پر اس حوالے سے تنقید کی ہے کہ اس میں پابندیاں بہت زیادہ ہیں ۔ ہم پروفیسر موصوف سے یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ جس ادارے سے انھوں نے پڑ ھا ہے اور جہاں وہ پڑ ھا رہے ہیں کیا وہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔ یقیناًوہاں بھی بہت سی پابندیاں ہوں گی۔ دنیا کے ہر ادارے ، ملک اور معاشرے میں کچھ نہ کچھ پابندیاں ضرور ہوتی ہیں ۔پابندی کا ہونا غلط نہیں ، ان کا غیر فطری یا غیر عقلی ہونا غلط ہے ۔

اب رہیں اسلام کی عائد کردہ پابندیاں تو اسلام اپنے ماننے والوں پر جو پابندیاں عائد کرتا ہے ا ن کے متعلق تین باتیں ذہن نشین رہنی چاہییں :

  1. اسلام اپنے ماننے والوں پر کوئی غیر فطری پابندی نہیں لگاتا۔ یعنی کھانے پینے ، شادی ، لباس، تفریح کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر فطری پابندی جو زندگی کو مشکل بنادے وہ اسلام میں موجود نہیں ۔ اگر کسی کو کوئی پابندی غیر فطری لگتی ہے تو وہ اسے پیش کرے ، ہم اس کا جواب دیں گے ۔
  2. اسلام جو کچھ پابندیاں لگاتا ہے وہ بہت کم اور مختصر ہیں ۔ ان کو ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شریعت میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسلام کے نام پر زیادہ تر جو پابندیاں آج کل نظر آتی ہیں وہ اہلِ علم کی آرا ہیں ۔ ان پر ظاہر ہے کہ گفتگو ہو سکتی ہے اور یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ان کا تعلق دین سے نہیں ہے ۔
  3. اسلام جو کچھ پابندیاں عائد کرتا ہے ، ان کا تعلق ان اقدار سے ہے جنھیں وہ اپنے ماننے والوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ مثلاً عفت و عصمت اس کی ایک مطلوب قدر ہے ۔اس لیے وہ اس حوالے سے مرد وزن کے اختلاط کے موقع پر کچھ پابندیاں لگاتا ہے تاکہ معاشرے کی بنا زنا اور شہوانیت کے بجائے پاک دامنی اور عصمت پر اٹھے۔ بحث اس پر ہونی چاہیے کہ عفت و عصمت کوئی مطلوب شے ہے یا نہیں ۔ آج اہل مغرب اپنی تمام تر خوبیوں کے باجود عفت کو کھونے کے بعد کبھی ایڈز جیسے مسائل کا شکارہوتے ہیں اور کبھی خاندان کے ٹوٹ جانے کا رونا روتے ہیں ۔ جبکہ ہم اپنی تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باجود صرف عفت و عصمت کو تحفظ دے کر آج ان مسائل سے دوچار نہیں جن کا انھیں سامنا ہے ۔

اسلام نہ لڑ کے لڑ کیوں کو ملنے سے منع کرتا ہے نہ تفریح اور لباس پر پابندیاں لگا تا ہے ۔ اس کی پابندی جنسی بے راہ روی پر ہے ، عریانی پر ہے ، فواحش اور بے حیائی پر ہے ۔ کیونکہ انسانیت کا تجربہ ہے کہ یہ چیزیں آخر کار تباہی کا باعث ہوتی ہیں ۔آ پ اپنی بیٹی سے کہیں کہ وہ انٹر نیٹ پر یا کسی اور ذریعے سے اپنا مطالعہ بڑ ھائیں ۔ ان شاء اللہ وہ خود بھی ان باتوں کا جواب دینے کے قابل ہوں گی اور کوئی مسئلہ واضح نہ ہو تو ہم حاضر ہیں ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author