اسلام میں پردے کا حکم

سوال:

پردے کے بارے میں صحیح نقطۂ نظر کیا ہے؟


جواب:

الغ عورت کے لیے پردے کا وہ تصور جو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے ، یہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ بات غلط ہے کہ عورت کو نامحرموں سے اپنا چہرہ،ہاتھ اور پاؤں لازماً چھپانا چاہیے۔


صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان مرد وں اور عورتوں کو ان کے میل جول کے موقعوں کے حوالے سے کچھ ضروری آداب سکھائے گئے ہیں۔ ان آداب کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ نور میں موجود ہے۔ ان میں غض بصر، شرم گاہوں کی حفاظت اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کرنے کا حکم تو موجود ہے، لیکن نامحرموں سے اپنے چہرے ڈھانکنے کا حکم موجود نہیں ہے۔


چنانچہ ایک مسلمان خاتون نامحرموں کے سامنے اپنا چہرہ اور ہاتھ پاؤں کھلے رکھ سکتی ہے، اس کے علاوہ وہ ایسا لباس اور چادر وغیرہ پہنے گی جس سے اس کی زینتیں ہر گز ظاہر نہ ہوں۔ چہرہ کھلا رکھنے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ عورت کو چہرے کی زینتیں جان بوجھ کر نمایاں کرنے اور دکھانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ نہیں، بلکہ جس چیز کی اجازت دی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں وغیرہ کی حد تک جو زینت عام طور پر ظاہر ہو جایا کرتی ہے، اسلام میں اس کو روا رکھا گیا ہے۔ چنانچہ کوئی عورت چہرے کی زینت کو بھی جان بوجھ کر ظاہر نہیں کر سکتی۔


سورۂ نور کے علاوہ سورۂ احزاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حوالے سے بعض احکام دیے گئے ہیں، ان میں یہ بات موجود ہے کہ اگر کسی کو ان سے کوئی چیز مانگنی ہے تو وہ پردے کی اوٹ سے مانگے،لیکن یہ اور اس طرح کے کچھ اور احکام اصلاً آپ کی ازواج ہی کے ساتھ خاص تھے، جیسا کہ سورۂ احزاب کے اپنے الفاظ سے پتا چلتا ہے۔ اسی سورہ میں مدینے میں موجود منافقین کی شرارتوں سے بچنے کی غرض سے مسلمان عورتوں کو باہر نکلتے ہوئے اپنے اوپر بڑی چادر لینے کا حکم دیا گیا، سورہ کے الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ یہ حکم اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے ایک حل کے طور پر دیا گیا تھا۔ اسے سورۂ نور میں موجود احکام کی طرح شریعت کا مستقل حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ پردے کے معاملے میں علماے امت میں اختلاف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ انھوں نے ان سب احکام کو بالواسطہ طور پر پوری امت سے متعلق سمجھ لیا ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author